امام الحق اور محمد رضوان ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے لیے نااہل قرار، پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون سے باہر
فٹنس ٹیسٹ نہ دینے اور رپورٹ جمع نہ کرانے پر دونوں ستارے قومی سطح کی ڈومیسٹک کرکٹ سے محروم
بابر اعظم، پاکستان کرکٹ ٹیم کے موجودہ کپتان — انگلینڈ سیریز کے تناظر میں اہم کردار
پاکستان کرکٹ میں ایک بار پھر بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ سابق کپتان محمد رضوان اور تجربہ کار اوپنر امام الحق کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ دونوں کھلاڑی پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے سکیں گے جو چند روز میں شروع ہونے والا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس سیزن سے فرسٹ کلاس کرکٹ کے لیے فٹنس ٹیسٹ لازمی قرار دیا ہوا ہے۔ قواعد کے تحت ہر ڈیپارٹمنٹل ٹیم کو اپنے کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ کروانا اور رپورٹ بورڈ کے پاس جمع کرانا ضروری ہے۔ تاہم محمد رضوان اور امام الحق نے اپنی متعلقہ ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کو فٹنس ٹیسٹ نہیں دیے اور ان کی رپورٹ بھی دستیاب نہیں۔ اسی وجہ سے دونوں کو ڈومیسٹک کرکٹ سے باہر رکھا گیا ہے۔
فٹنس ٹیسٹ کی اہمیت اور پی سی بی کے نئے قواعد
پاکستان کرکٹ بورڈ نے حالیہ برسوں میں کھلاڑیوں کی فٹنس کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے جسمانی تندرستی کو بنیادی شرط قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی سوچ کے تحت اس سیزن سے پریزیڈنٹ ٹرافی میں شرکت کے لیے فٹنس ٹیسٹ لازمی کر دیا گیا۔
قواعد کے مطابق جو کھلاڑی فٹنس ٹیسٹ نہیں دیتا یا اس کی رپورٹ جمع نہیں ہوتی، وہ فرسٹ کلاس میچز میں شرکت کا اہل نہیں رہتا۔ محمد رضوان اور امام الحق کے معاملے میں یہی صورتحال پیش آئی۔ دونوں کی ڈیپارٹمنٹس کے پاس فٹنس کی کوئی رپورٹ موجود نہیں تھی جس کی وجہ سے انہیں نااہل قرار دے دیا گیا۔
محمد رضوان اور امام الحق کی ٹیمیں اور شیڈول میچز
محمد رضوان سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز (ایس این جی پی ایل) کی ٹیم کے نائب کپتان ہیں۔ اصل کپتان شان مسعود پہلے راؤنڈ میں دستیاب نہیں تھے اس لیے رضوان کو ٹیم کی قیادت کرنی تھی۔ سوئی ناردرن گیس کا پہلا میچ اسٹیٹ بینک کے خلاف شیڈول تھا۔
دوسری جانب امام الحق آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کے کپتان ہیں۔ ان کی ٹیم کا پہلا میچ پی ٹی وی کے خلاف طے تھا۔ دونوں میچز ٹورنامنٹ کے آغاز کے ساتھ ہی کھیلے جانے والے تھے لیکن اب دونوں ستارے ان میچز سے محروم ہو جائیں گے۔
پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون پاکستان کا سب سے اہم فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کھیلنے سے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر واپسی کا موقع ملتا ہے اور سلیکٹرز بھی ان کی کارکردگی پر نظر رکھتے ہیں۔ ایسے میں دو سینئر کھلاڑیوں کا باہر رہنا نہ صرف ان کے لیے بلکہ ان کی ٹیموں کے لیے بھی بڑا نقصان ہے۔
انگلینڈ دورے کا تناظر اور تحقیقات
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ محمد رضوان اور امام الحق دونوں کو انگلینڈ کے دورے سے درمیان میں ہی وطن واپس بلا لیا گیا تھا۔ لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کی بھاری شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کیں۔ سات کھلاڑیوں کو سکواڈ سے باہر کر کے واپس بھیج دیا گیا جن میں یہ دونوں بھی شامل تھے۔
اس کے علاوہ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ نئی انتظامیہ میں مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے کو ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ ان تبدیلیوں کے بارے میں کپتان بابر اعظم نے بھی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ انہیں ان فیصلوں کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ بابر اعظم نے واضح کیا کہ پی سی بی کے فیصلے ان کے لیے بھی ’نیوز‘ تھے اور وہ بعد میں مطلع ہوئے۔
اب دونوں کھلاڑیوں کے خلاف تحقیقات بھی جاری ہیں۔ قومی سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے انہیں طلب کیا اور لارڈز ٹیسٹ کے دوران ڈریسنگ روم سے ممکنہ لیکس کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے ان کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
بابر اعظم کی قیادت اور ٹیم کی موجودہ صورتحال
انگلینڈ سیریز کے دوران بابر اعظم پاکستان کے کپتان کی حیثیت سے ٹیم کی قیادت کر رہے تھے۔ سیریز میں دو ٹیسٹ ہارنے کے بعد تیسرے ٹیسٹ سے قبل بڑی تبدیلیاں کی گئیں لیکن بابر اعظم خود ٹیم میں برقرار رہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ نئے کھلاڑیوں کو موقع ملنا چاہیے اور ٹیم کو آزادانہ کھیلنا چاہیے۔
بابر اعظم نے یہ بھی واضح کیا کہ پی سی بی کے فیصلوں میں ان سے مشورہ نہیں لیا گیا۔ اس صورتحال نے پاکستان کرکٹ میں قیادت اور انتظامیہ کے درمیان رابطے کے بارے میں بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تاہم بابر اعظم نے بورڈ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی فیصلہ کیا گیا ہے اسے قبول کیا جائے گا۔
موجودہ وقت میں پاکستان کرکٹ کئی محاذوں پر چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ بین الاقوامی نتائج مایوس کن رہے ہیں، ڈومیسٹک سسٹم میں اصلاحات کی جا رہی ہیں اور سینئر کھلاڑیوں کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔ ایسے میں فٹنس کے سخت قواعد کا نفاذ مثبت قدم سمجھا جا سکتا ہے لیکن اس کے عملی نفاذ میں شفافیت اور یکسانیت ضروری ہے۔
ڈومیسٹک کرکٹ پر اثرات اور مستقبل کے امکانات
پریزیڈنٹ ٹرافی سے دو بڑے ناموں کا باہر رہنا ٹورنامنٹ کی کشش کو ضرور متاثر کرے گا۔ محمد رضوان ایک تجربہ کار وکٹ کیپر بلے باز ہیں جو ٹیم کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔ امام الحق بھی اوپننگ پوزیشن پر مستحکم کارکردگی دکھاتے رہے ہیں۔ دونوں کی عدم موجودگی میں نوجوان کھلاڑیوں کو موقع ملے گا جو ایک لحاظ سے مثبت بھی ہو سکتا ہے۔
تاہم سینئر کھلاڑیوں کے لیے یہ صورتحال پریشان کن ہے۔ اگر وہ ڈومیسٹک میچز نہیں کھیل سکے تو مرکزی کنٹریکٹ برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ پی سی بی نے واضح کیا ہے کہ کنٹریکٹڈ کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ میں باقاعدہ شرکت کرنی ہوگی۔ اس لیے امام الحق اور رضوان کو جلد از جلد فٹنس ٹیسٹ مکمل کر کے اہلیت حاصل کرنی ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ کو طویل المدتی استحکام کے لیے سخت مگر منصفانہ نظام کی ضرورت ہے۔ فٹنس ٹیسٹ کا لازمی ہونا ایک اچھا قدم ہے لیکن اس کے ساتھ کھلاڑیوں کو مناسب وقت اور سہولت بھی فراہم کی جانی چاہیے۔ خاص طور پر جب کھلاڑی بین الاقوامی دورے سے واپس آ رہے ہوں تو ان کے لیے الگ انتظام کیا جا سکتا ہے۔
خلاصہ اور آگے کی راہ
خلاصہ یہ ہے کہ محمد رضوان اور امام الحق فٹنس ٹیسٹ نہ دینے کی وجہ سے پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون سے باہر ہیں۔ ان کی ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کے پاس مطلوبہ رپورٹ موجود نہیں تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ انگلینڈ دورے کے تناظر میں جاری تحقیقات بھی ان کے مستقبل پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
بابر اعظم کی قیادت میں قومی ٹیم نئی تبدیلیوں کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے جبکہ ڈومیسٹک سطح پر بھی نئے قواعد نافذ ہو رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ کو اس مشکل مرحلے سے گزرنے کے لیے نظم و ضبط، شفافیت اور کھلاڑیوں کے ساتھ بہتر رابطے کی ضرورت ہے۔
امید کی جا سکتی ہے کہ دونوں کھلاڑی جلد فٹنس کے تقاضے پورے کر کے میدان میں واپس آئیں گے اور اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ کرکٹ کے شائقین بھی چاہتے ہیں کہ سینئر کھلاڑی اپنی بہترین فارم میں واپس آ کر قومی ٹیم کو مضبوط بنائیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں