پشاور اسکول حادثہ: جاں بحق افراد کی تعداد 29 ہوگئی، مالک گرفتار
پشاور کی دیر کالونی میں نجی اسکول کی عمارت گرنے سے پیش آنے والا المناک حادثہ کئی خاندانوں کو غم میں مبتلا کر گیا ہے۔ اس سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 29 ہوگئی ہے، جن میں چھ طالبات اور دو اساتذہ بھی شامل ہیں۔ واقعے کے بعد پولیس نے اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق حادثے میں 40 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ پشاور کے سی سی پی او میاں سعید نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی تصدیق کی ہے۔ عمارت منہدم ہونے کے بعد امدادی کارروائیوں اور متاثرہ افراد کی صورتحال نے اسکولوں میں بچوں کی حفاظت سے متعلق اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ تعلیمی ادارہ کسی باقاعدہ اسکول کی عمارت کے بجائے ایک رہائشی مکان میں قائم تھا، جہاں بڑی تعداد میں بچے زیر تعلیم تھے۔ بتایا گیا ہے کہ طلبہ کو بٹھانے کی گنجائش بڑھانے کے لیے عمارت کی بالائی منزل پر چھتیں تعمیر کی گئی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ تعمیرات مضبوطی کے مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اترتی تھیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بالائی حصے کی چھت گرنے سے نیچے کی چھت بھی منہدم ہوگئی، جس کے نتیجے میں بچے اور تدریسی عملے کے افراد ملبے تلے دب گئے۔ تاہم عمارت کی اصل ساخت، تعمیراتی معیار اور حادثے کے دیگر ممکنہ اسباب کی حتمی تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گی۔
واقعے کے بعد پولیس نے مبینہ غفلت اور غیر قانونی تعمیرات کے معاملے پر اسکول کے مالک کو گرفتار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انتظامیہ نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے، جو عمارت کے انہدام کے اسباب کا جائزہ لے گی۔ تحقیقات میں یہ جاننا اہم ہوگا کہ عمارت بچوں کی موجودگی کے لیے محفوظ تھی یا نہیں اور تعمیر کے دوران متعلقہ حفاظتی تقاضوں کو پورا کیا گیا تھا یا نہیں۔
یہ حادثہ تعلیمی اداروں کے لیے محفوظ عمارتوں، تعمیراتی معیار اور بچوں کی جانوں کے تحفظ کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔ اسکول انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ طلبہ کے لیے ایسی جگہ فراہم کی جائے جہاں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ان کی سلامتی کو خطرہ لاحق نہ ہو۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے اس ناقابل تلافی نقصان کے بعد شفاف تحقیقات اور ذمہ داری کا تعین نہایت اہم ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں