ایف بی آر میں بڑی تبدیلی کی تیاری، کیا پاکستان کو نیا ٹیکس ادارہ ملنے والا ہے؟
پاکستان میں ٹیکس وصولیوں کا نظام تبدیل کرنے کے لیے حکومت ایک اہم فیصلے پر غور کر رہی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی تنظیم نو کے ساتھ ایک نئے قومی ٹیکس ادارے کے قیام کا آپشن بھی زیر بحث ہے۔ اس پیش رفت کے بعد توجہ اس بات پر مرکوز ہوگئی ہے کہ مجوزہ تبدیلیوں سے ٹیکس وصولیوں اور ٹیکس نیٹ کو کس حد تک بہتر بنایا جا سکے گا۔
سرکاری حکام کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ وہ 19 اکتوبر کو ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے، انسانی وسائل میں اصلاحات اور تنظیم نو سے متعلق جامع تجاویز پیش کرے۔ چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کی نگرانی میں اس منصوبے کی تیاری پر کام جاری ہے۔
نئے ادارے کے قیام سے متعلق بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ حکومتی سطح پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ ایف بی آر کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا جائے گا۔ زیر غور تجاویز میں ادارے کے اختیارات، انتظامی ڈھانچے اور ٹیکس وصولی کے طریقہ کار میں تبدیلی بھی شامل ہے۔ اگر اختیارات کسی نئے ادارے کو منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تو متعلقہ قوانین میں ترامیم درکار ہوں گی۔
اس معاملے کی اہمیت کی ایک بڑی وجہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے میں درپیش مشکلات ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق قومی ٹیکس نمبر رکھنے والے تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ افراد میں سے 16 اکتوبر کی شام تک 69 لاکھ افراد نے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے تھے۔ گزشتہ ٹیکس سال میں گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 85 لاکھ رہی تھی۔ یہ فرق حکومت کے لیے ٹیکس نظام میں بہتری کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔
حکومت تاجروں کو بھی ٹیکس نظام میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مقررہ ٹیکس اسکیم کے ذریعے 37 لاکھ خوردہ فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا ہدف رکھا گیا تھا، جبکہ رواں سال دس لاکھ تاجروں کو شامل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس کے ساتھ ڈیجیٹل انوائسنگ، پوائنٹ آف سیل نظام اور مصنوعی ذہانت پر مبنی رسک مینجمنٹ کے ذریعے کاروباری لین دین اور آڈٹ کے عمل کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اصلاحات کا مقصد ادارے کو زیادہ مؤثر اور ٹیکس دہندگان کے لیے سہل بنانا ہے۔ ٹیکس وصولی کا کام کسی نجی کمپنی کے حوالے کرنے سے متعلق اطلاعات کو بھی ترجمان نے بے بنیاد قرار دیا ہے۔
اب اہم مرحلہ وزیراعظم کے سامنے پیش کی جانے والی تجاویز ہیں۔ ان کی بنیاد پر اندازہ ہوگا کہ حکومت موجودہ ادارے کی اصلاحات کو ترجیح دیتی ہے یا نئے ٹیکس ادارے کے قیام کی سمت بڑھتی ہے۔ فی الحال دونوں امکانات زیر غور ہیں اور حتمی فیصلے کا انتظار ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں