تازہ ترین
تاریخ
English Date
ہجری تاریخ
⌛ Pakistan Time

جمعہ، 16 اکتوبر، 2026

اختر مینگل نے اٹھا دیا بڑا سوال، آئین کے معاملے میں دوہرا معیار کیوں؟

Urdu News, Urdu Khabrain, Pakistan News, Pakistan Khabrain, Urdu Sports, International News, Pakistan Currency, Gold Rate, Showbiz, Health, Technology

اختر مینگل کا اہم سوال، غیر آئینی اقدامات کا دفاع کرنے والوں کو ماضی بھی یاد رکھنا چاہیے

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے آئین اور جمہوریت کے حوالے سے ایک اہم سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اقتدار میں موجود افراد اگر موجودہ اقدامات کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں ماضی کے ایسے واقعات کے بارے میں بھی اسی معیار کو سامنے رکھنا ہوگا۔ ان کے مطابق آئینی اصولوں کا اطلاق کسی ایک دور یا مخصوص حالات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اختر مینگل نے کہا کہ حکمران طبقہ عموماً اپنے فیصلوں کے حق میں دلائل پیش کرتا ہے، لیکن کسی اقدام کو درست قرار دینے کے لیے صرف اقتدار میں ہونا کافی نہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر آج کے اقدامات کو جائز سمجھا جائے تو پھر ماضی میں ہونے والے غیر آئینی واقعات کے بارے میں بھی یہی اصول اختیار کرنا پڑے گا۔

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے اختر مینگل نے 12 اکتوبر 1999 کے واقعے کا حوالہ دیا، جب جنرل پرویز مشرف نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ فیصلوں کے دفاع میں استعمال ہونے والی دلیل کو ماضی کے ایسے واقعات پر بھی لاگو کیا جائے تو ان کے بارے میں بھی وہی مؤقف اختیار کرنا پڑے گا۔

بی این پی مینگل کے سربراہ نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو دی جانے والی پھانسی اور جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کا ذکر بھی کیا۔ ان کے بیان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ اگر کسی غیر آئینی اقدام کو صرف اس بنیاد پر درست قرار دیا جائے کہ اسے طاقت یا اقتدار رکھنے والوں نے انجام دیا تھا، تو پھر تاریخ کے دوسرے متنازع واقعات کو مختلف پیمانے پر پرکھنے کی منطق بھی سوالات کی زد میں آتی ہے۔

اختر مینگل نے اس بات پر زور دیا کہ آئین اور جمہوریت کے خلاف ہونے والے اقدامات کی حمایت کرنے والے افراد کو اپنے دعوؤں اور اصولوں میں مطابقت رکھنی چاہیے۔ ان کے نزدیک جمہوریت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ کسی فیصلے کا جائزہ شخصیات، عہدوں یا سیاسی مفادات کے بجائے آئینی اصولوں کی روشنی میں لیا جائے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں آئینی بالادستی اور سیاسی فیصلوں پر بحث جاری ہے۔ اختر مینگل کے مؤقف کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ اگر کسی اقدام کو درست یا غلط قرار دینے کا معیار بدلتا رہے تو جمہوری اصولوں کی اہمیت متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ہر دور میں ایک ہی اصول اپنانا ضروری ہے، تاکہ آئین کی بالادستی محض سیاسی مؤقف کے بجائے عملی بنیاد بھی رکھ سکے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

🍲 پاکستانی پکوان — Recipes

Urdumaaza Information Hub