آٹھ سال بعد شرجیل میمن کو اسپتال کیس میں ریلیف، عدالت کا فیصلہ سامنے آگیا
کراچی میں ایک ایسے مقدمے کا فیصلہ سامنے آیا ہے جو کئی برس سے قانونی کارروائی کا حصہ بنا ہوا تھا۔ ضیاء الدین اسپتال کے کمرے سے مبینہ طور پر شراب کی بوتلیں ملنے کے معاملے میں صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن اور دیگر نامزد افراد کو عدالت نے بری کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی 2018 میں شروع ہونے والے اس کیس کی طویل قانونی کارروائی اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔
عدالت نے کن بنیادوں پر فیصلہ سنایا؟
13 اکتوبر 2026 کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کراچی کی عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے کے لیے قابل قبول شواہد پیش نہیں کر سکا۔ عدالت کے مطابق دستیاب مواد کی بنیاد پر ملزمان کو قصوروار قرار دینے کے لیے ضروری ثبوت موجود نہیں تھے۔
شرجیل میمن کے ساتھ اس مقدمے میں نامزد مشتاق، شکر دین، محمد جان، حبیب اللہ اور نسیم شجاع کو بھی الزامات سے بری کر دیا گیا۔ فیصلے میں بنیادی اہمیت اس بات کو حاصل رہی کہ مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں تھے۔
بوتلوں کے اندر کیا موجود تھا؟
ملزمان کی وکیل عروشہ میمن ایڈووکیٹ نے سماعت کے دوران بتایا کہ فرانزک اور میڈیکل رپورٹس کے مطابق متعلقہ بوتلوں میں شراب یا الکوحل نہیں بلکہ شہد اور زیتون کا تیل موجود تھا۔ ان کے مطابق سائنسی جانچ سے پولیس کے ابتدائی دعوے کی تائید نہیں ہوئی، جبکہ یہی شواہد مقدمے میں اہم حیثیت رکھتے تھے۔
اس کیس میں بوتلوں کے اندر موجود مواد کی نوعیت بنیادی سوال بن گئی تھی۔ وکیل کے بیان کے مطابق، رپورٹس نے اس معاملے پر وضاحت فراہم کی اور عدالت میں الزامات ثابت کرنے کے لیے پیش کیے گئے مؤقف کی بنیاد کمزور پڑ گئی۔
مقدمہ آٹھ سال پہلے کیسے شروع ہوا؟
اس معاملے کا آغاز 2018 میں ہوا تھا، جب اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ضیاء الدین اسپتال میں اس کمرے کا اچانک دورہ کیا جہاں شرجیل میمن زیر علاج تھے۔ اس دورے کے دوران کمرے سے مبینہ طور پر شراب کی بوتلیں ملنے کا دعویٰ سامنے آیا، جس کے بعد بوٹ بیسن تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔
اس کے بعد معاملہ قانونی کارروائی اور شواہد کی جانچ کے مراحل سے گزرتا رہا۔ اب عدالت کے فیصلے نے اس مقدمے میں نامزد تمام افراد کو بری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ کسی الزام کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا، جب تک عدالت میں اس کے خلاف قابل قبول ثبوت پیش نہ کیے جائیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں