محمد رضوان سے انگلینڈ میں رات کے وقت پوچھ گچھ، موبائل فون لیا گیا
پاکستان کرکٹ ٹیم کے معروف وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان سے انگلینڈ کے دورے کے دوران ایک حساس واقعہ پیش آیا۔ ذرائع کے مطابق لارڈز ٹیسٹ میچ کے اختتام کے بعد رات تقریباً ڈیڑھ بجے انہیں ہوٹل کے کمرے سے بلا کر لابی میں لایا گیا۔ وہاں پاکستان کرکٹ بورڈ کا ایک اہلکار اور ایک نامعلوم شخص موجود تھا۔
رضوان سے آن لائن بیٹنگ کمپنیوں اور سٹے بازی سے متعلق متعدد سوالات کیے گئے۔ اس کے ساتھ ہی ان کا موبائل فون بھی طلب کیا گیا۔ رضوان نے ابتدا میں فون دینے سے انکار کرتے ہوئے پوچھا کہ یہ کارروائی کس بنیاد پر کی جا رہی ہے اور ان کے خلاف کیا الزامات ہیں۔ تاہم بار بار اصرار کے بعد انہیں کہا گیا کہ پاکستان کے مفاد میں فون حوالے کر دیں۔ اس پر رضوان نے رضامندی ظاہر کر دی۔
انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ فون چند گھنٹوں میں واپس کر دیا جائے گا۔ اگلے دن وطن واپسی کی پرواز ہونے کے باعث رضوان نے موبائل کے بغیر واپس آنے پر اعتراض کیا اور ٹیم منیجر سے بار بار اس بارے میں استفسار کیا، لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ موبائل فون نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے پاس لاہور پہنچ چکا ہے اور اب تک واپس نہیں کیا گیا۔
رضوان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ انہیں تحقیقات کے عمل پر تحفظات ہیں۔ ان کے مطابق سینٹرل کنٹریکٹ کے تحت سکیورٹی یا ٹیم منیجر کھلاڑی کا فون لے سکتا ہے، لیکن تحریری رپورٹ، وجوہات اور رسید فراہم کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ کارروائی آئی سی سی اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت ہوئی تو تحریری مطالبہ کہاں ہے؟ اور اگر آئی سی سی کوڈ استعمال نہیں ہوا تو موبائل کس اختیار کے تحت لیا گیا؟
ذرائع نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ چند گھنٹوں میں واپسی کی یقین دہانی کے باوجود فون کو ملک سے باہر منتقل کر کے ہفتوں تک کیوں رکھا گیا۔ لندن میں فون لیتے وقت برطانوی پولیس یا نیشنل کرائم ایجنسی کو مطلع کیا گیا تھا یا نہیں؟ اگر معاملہ بین الاقوامی میچ میں کرپشن سے متعلق تھا تو آئی سی سی کو کب آگاہ کیا گیا؟
رضوان اس وقت تمام متعلقہ اداروں سے تحریری جوابات کے منتظر ہیں۔ انہوں نے تحقیقات کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ الزامات کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ وہ مناسب جواب دے سکیں۔ اس پورے معاملے پر آئی سی سی کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں