سندھ اسمبلی کے باہر پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے خلاف گدھا گاڑی پر انوکھا احتجاج
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کے دام کیا بڑھے، عوام کے ساتھ ساتھ اب سیاسی رہنماؤں کے بھی دیسی اور انوکھے طریقے سامنے آنے لگے ہیں۔ روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرول بم نے عام آدمی کی زندگی تو پہلے ہی اجیرن کر رکھی تھی، لیکن کراچی میں جو مناظر دیکھنے کو ملے، اس نے سب کو حیران بھی کیا اور سوچنے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔
وی آئی پی کلچر کو خیرباد: جب رہنما گاڑی چھوڑ کر گدھا گاڑی پر آ گئے
سندھ اسمبلی کے ایک اہم اجلاس کے موقع پر تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکینِ اسمبلی نے ایک الگ ہی ڈرامائی اور علامتی انداز اپنایا۔ اپنی مہنگی اور چمکتی دمکتی وی آئی پی گاڑیوں کو گھروں پر کھڑا کر کے یہ تمام رہنما سیدھا گدھا گاڑیوں پر سوار ہوئے اور ایوان کی طرف روانہ ہو گئے۔ اسمبلی کے باہر موجود صحافی اور عام راہگیر اس منظر کو دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ اراکین کے ہاتھوں میں نعروں درج پلے کارڈز تھے جن پر پیٹرولیم قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کے خلاف سخت الفاظ درج تھے۔
"گاڑی میں پیٹرول ڈلوانا اب بس کی بات نہیں رہی" — اپوزیشن کا موقف
میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔ ان کا کہنا تھا کہ "جب پیٹرول کے دام روزانہ کی بنیاد پر آسمان سے باتیں کرنے لگیں تو آخر کون گاڑی چلانے کا خرچ اٹھا سکتا ہے؟ اگر ہم عوام کے نمائندے ہو کر اس مہنگے پیٹرول کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے تو عام شہری کا کیا حال ہو رہا ہو گا؟" انہوں نے مزید کہا کہ آج ملک کا عام اور متوسط طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے اور حکومت کو اس بات کا ذرا برابر احساس نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل اور ایوان میں زبردست ہنگامہ
اس انوکھے اور تخلیقی احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز چند ہی منٹوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ جہاں ایک طرف عوام نے اس اندازِ احتجاج کو سراہا اور شیئر کیا، وہیں دوسری طرف سندھ اسمبلی کے اندر بھی اس مسئلے پر شدید نعرے بازی اور بحث ہوئی۔ اپوزیشن نے صاف الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد اضافی ٹیکسز اور لیوی کو فوری طور پر ختم کیا جائے تاکہ عوام کو کچھ سکون کا سانس مل سکے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں