ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز سے پاکستان چیمپئنز کے باہر ہونے کی تصدیق ہوگئی
ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز کے موجودہ ایڈیشن سے پاکستان چیمپئنز ٹیم کے باہر ہونے کی باضابطہ تصدیق ہو چکی ہے۔ یو اے ای میں شروع ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں پاکستانی لیجنڈز کا پہلا میچ شارجہ میں بنگلہ دیش کے خلاف طے تھا، تاہم منتظمین نے اس میچ کو ملتوی کر دیا۔ اس فیصلے کی بنیادی وجہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کھلاڑیوں کو این او سی جاری نہ کرنا بتائی جا رہی ہے۔
معتبر ذرائع کے مطابق کپتان شاہد آفریدی اور سرفراز احمد نے دبئی روانگی سے قبل ہی احتیاط برتی، جبکہ کچھ دیگر کھلاڑی پہلے ہی وہاں پہنچ چکے تھے۔ ٹیم کے مالکان نے نام تبدیل کر کے شرکت کی کوشش کی، مگر یہ تجویز بھی قبول نہ کی گئی۔ گزشتہ سال بھارتی ٹیم نے پاکستان چیمپئنز کے ساتھ دو بار مقابلے سے انکار کیا تھا، جس میں شیکھر دھون کا کردار نمایاں تھا۔
شیڈول کے مطابق دس اکتوبر کو دبئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ ہونا تھا۔ بھارتی اسکواڈ میں عرفان پٹھان، یوسف پٹھان اور ہربھجن سنگھ جیسے کھلاڑی شامل ہیں جو اکثر پاکستان کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے ہیں۔ حکام کو خدشہ تھا کہ اگر این او سی مل جاتی اور پاکستانی لیجنڈز میدان میں اترتے تو بھارتی ٹیم ایک بار پھر دستبردار ہو سکتی تھی۔ غیر ضروری تنازع سے بچنے کے لیے این او سی نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
کچھ بااثر شخصیات نے پی سی بی پر فیصلہ تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا، لیکن کامیابی نہ مل سکی۔ دوسری جانب پاکستان چیمپئنز کے مالک کامل خان اب بھی امید رکھتے ہیں کہ این او سی مل جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے خلاف میچ تو نہیں ہو سکا، مگر پلیئرز نے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق درخواست دی تھی اور وہ مثبت فیصلے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی سی بی ہمارا اپنا بورڈ ہے اور ہم اس کے کسی فیصلے کے خلاف نہیں جائیں گے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کرتا ہے کہ کرکٹ میں سیاسی اور انتظامی رکاوٹیں کتنی بڑی رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ پاکستانی لیجنڈز جو عالمی سطح پر اپنی کارکردگی سے پہچانے جاتے ہیں، انہیں اس ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کا موقع نہ مل سکا۔ مستقبل میں ایسے فیصلوں پر غور و خوض کی ضرورت ہے تاکہ کھلاڑیوں کے مواقع متاثر نہ ہوں اور کرکٹ کا جذبہ برقرار رہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں