کوہاٹ پولیس لائنز میں دہشت گردانہ حملہ: چھ دہشت گرد ہلاک، کلیئرنس آپریشن جاری
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں جمعہ کی نماز کے دوران پولیس لائنز کے قریب ایک خطرناک دہشت گردانہ واقعہ پیش آیا۔ بارود سے بھری ایک گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرائی جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا۔ اس کے فوراً بعد ایک خودکش حملہ آور نے سپیشل برانچ کی عمارت کے سامنے خود کو اڑا دیا۔
انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق دھماکے کے بعد سات مسلح دہشت گردوں نے پولیس لائنز کے احاطے میں دراندازی کی۔ پولیس اور کانٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے شدید فائرنگ کا تبادلہ کیا۔ اب تک کی تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق خودکش بمبار اور ایک سنائپر سمیت چھ دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی نے بتایا کہ دھماکا دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے ہوا۔ سینٹرل پولیس آفس کے ترجمان عبدالسلام خالد کے مطابق شدت پسندوں کا بنیادی ہدف پولیس لائنز اور وہاں موجود مسجد تھی جہاں اس وقت نماز جمعہ ادا کی جا رہی تھی۔ دھماکے سے مسجد کی بیرونی دیوار اور کچھ ملحقہ عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
علاقہ گنجان آباد ہونے کی وجہ سے صورتحال انتہائی حساس رہی۔ پشاور کوہاٹ روڈ کو عارضی طور پر ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تاکہ سیکیورٹی فورسز بغیر کسی رکاوٹ کے آپریشن مکمل کر سکیں۔ آئی جی پولیس نے واضح کیا کہ اب تک ایک دہشت گرد ہلاک ہونے کی ابتدائی اطلاع کے بعد مزید پانچ افراد بھی مارے جا چکے ہیں اور آپریشن کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں جبکہ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں