بھارت کے 29 ستمبر کے مبینہ آپریشن پر بڑا سوال، ڈی جی آئی ایس پی آر نے اہم تفصیل بتا دی
راولپنڈی: 29 ستمبر کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے مبینہ آپریشن کے حوالے سے پاکستان نے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بھارتی کارروائی اور اس سے متعلق سامنے آنے والے دعووں پر تفصیلی مؤقف پیش کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 29 ستمبر کو مقبوضہ کشمیر میں ایک ایسا فوجی آپریشن پیش کیا گیا جس کے بارے میں بھارتی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا تاثر دیا گیا۔ ان کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے رات کے وقت سوشل میڈیا پر بھی اس کارروائی سے متعلق معلومات شیئر کی گئیں، جن میں ایک مبینہ دہشت گرد کو ہلاک کرنے اور لشکرِ طیبہ سے وابستہ شخص کی لاش ملنے کا دعویٰ کیا گیا۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے بھارتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک من گھڑت کارروائی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس شخص کو بھارتی حکام کی جانب سے دہشت گرد قرار دے کر ہلاک کیے جانے کا تاثر دیا گیا، اسے پاکستانی جانب سے پریس کانفرنس میں پیش کیا گیا، جس سے بھارتی مؤقف پر مزید سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیوں کا مقصد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے عالمی توجہ ہٹانا اور پاکستان کے خلاف ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دینا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بھارتی فوج کی جانب سے پیش کیے گئے دعووں کو فالس فلیگ آپریشن قرار دیتے ہوئے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی ادارے خطے میں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی یا پروپیگنڈا کی کوشش کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
29 ستمبر کے واقعے سے متعلق دونوں جانب سے سامنے آنے والے مؤقف کے بعد معاملہ ایک مرتبہ پھر پاک بھارت کشیدگی اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے تناظر میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی دعوے کو مسترد کیے جانے کے بعد اس واقعے سے متعلق مزید تفصیلات اور شواہد پر بھی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں