جماعت اسلامی کی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کیلئے کردار ادا کرنے کی پیشکش
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش کر دی ہے۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کی اور کہا کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جانا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ حکومت کو پی ٹی آئی سے بامعنی مذاکرات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پہلے بھی مذاکرات کے چھ ادوار ہو چکے ہیں لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ ان کے بقول اب وزیراعظم خود مداخلت کریں تاکہ صورتحال بہتر ہو سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج پی ٹی آئی کا حق ہے۔ لیاقت بلوچ کا اسد قیصر سے رابطہ ہوا ہے اور جماعت اسلامی پرامن جمہوری سیاسی احتجاج کی حمایت کرتی ہے۔ عمران خان کی ہسپتال منتقلی اور ملاقاتوں کے معاملے پر بھی حکومت کو پی ٹی آئی سے بات کرنی چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کو غیر قانونی اور عوام کی جیبوں پر ڈاکا قرار دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود پاکستان میں اسی تناسب سے کمی کیوں نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق ایف بی آر ٹیکس جمع کرنے میں ناکام ہے اور عوام پر بوجھ ڈال کر اپنی نااہلی چھپائی جا رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مہنگائی، بجلی اور گیس کی قیمتوں نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ پٹرولیم لیوی کے خلاف ان کی تحریک جاری ہے اور حیدرآباد میں جلسہ بھی ہوا۔ دھرنا اب بھی جاری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف پاکستان واپس آ چکے ہیں اور اگر لیوی ختم نہ کی گئی تو لانگ مارچ شروع کر دیا جائے گا۔
انہوں نے حکومت کی سود سے متعلق پالیسی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وزیر خزانہ 2027 میں سود ختم کرنے کی بات کرتے رہے ہیں جبکہ اس وقت پالیسی ریٹ گیارہ فیصد ہے۔ جماعت اسلامی احتجاجی تحریک سے دستبردار نہیں ہو گی اور ملتان میں دھرنا جاری رکھے گی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں