مکہ مکرمہ میں راہگیروں کو خوفزدہ کرنے والا شخص گرفتار، دھماکے کی افواہ بے بنیاد نکلی
مکہ مکرمہ: سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں سکیورٹی اہلکاروں نے ایک ایسے شخص کو حراست میں لے لیا ہے جس کی حرکات سے راہگیروں میں خوف و تشویش پیدا ہوگئی تھی۔ سکیورٹی حکام کے مطابق واقعے کے سامنے آتے ہی متعلقہ اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کرلیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق مذکورہ شخص عوامی مقام پر لوگوں کو ہراساں کر رہا تھا اور اس کے رویے کے باعث وہاں موجود افراد میں بے چینی پھیل گئی۔ سکیورٹی اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر معاملے کو سنبھالا اور متعلقہ شخص کو گرفتار کرلیا، جس کے بعد صورتحال معمول پر آگئی۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر اس حوالے سے کئی متضاد دعوے گردش کرنے لگے۔ بعض پوسٹس میں یہ تاثر دیا گیا کہ گرفتار شخص خود کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کر رہا تھا یا اس کے پاس بم موجود تھا۔ تاہم سکیورٹی حکام نے ان دعوؤں کی واضح طور پر تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی اطلاعات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
حکام کی جانب سے جاری وضاحت میں شہریوں اور دیگر افراد پر زور دیا گیا ہے کہ کسی بھی واقعے سے متعلق معلومات حاصل ہونے کی صورت میں اس کی تصدیق کیے بغیر اسے آگے نہ بڑھایا جائے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ پوسٹس بعض اوقات اصل واقعے سے مختلف صورتحال پیش کرسکتی ہیں، جس سے عوام میں غیر ضروری خوف پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
سکیورٹی حکام نے واضح کیا کہ مذکورہ واقعے میں مشتبہ شخص کے خلاف بروقت کارروائی کی گئی اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روک دیا گیا۔ حکام کی یہ وضاحت ان افواہوں کے تناظر میں اہم ہے جن میں واقعے کو دھماکے یا بم کی موجودگی سے جوڑا جارہا تھا۔
عوام سے ایک بار پھر اپیل کی گئی ہے کہ حساس نوعیت کے واقعات سے متعلق کسی بھی خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کے مستند ہونے کو ضرور جانچا جائے۔ غیر ذمہ دارانہ انداز میں افواہیں پھیلانے سے نہ صرف لوگوں میں بے چینی پیدا ہوسکتی ہے بلکہ کسی معمولی واقعے کی نوعیت بھی غیر ضروری طور پر سنگین دکھائی دے سکتی ہے۔
مکہ مکرمہ جیسے اہم اور حساس مقام پر سکیورٹی ادارے عوام کے تحفظ اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات کرتے ہیں۔ موجودہ واقعے میں بھی حکام کی جانب سے یہی مؤقف سامنے آیا ہے کہ صورتحال پر بروقت قابو پالیا گیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی دھماکے سے متعلق اطلاعات درست نہیں تھیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں