تازہ ترین
تاریخ
English Date
ہجری تاریخ
⌛ Pakistan Time

پیر، 28 ستمبر، 2026

آبنائے ہرمز پر ایرانی دعوے کو امریکا نے چیلنج کر دیا

Urdu News, Urdu Khabrain, Pakistan News, Pakistan Khabrain, Urdu Sports, International News, Pakistan Currency, Gold Rate, Showbiz, Health, Technology, Poetry and Latest Updates.
آبنائے ہرمز پر ایرانی دعوے سے متعلق امریکی سینٹرل کمانڈ کا مؤقف

آبنائے ہرمز پر ایرانی دعوے سے متعلق امریکی سینٹرل کمانڈ کا مؤقف

امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کے ایک اہم دعوے پر اپنا مؤقف سامنے رکھتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ امریکی کمانڈ کے مطابق ایران کی جانب سے اس انتہائی اہم سمندری راستے پر مکمل کنٹرول رکھنے کا دعویٰ زمینی اور بحری صورتحال کی درست عکاسی نہیں کرتا۔ اس معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان بیانات کا سلسلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج فارس اور اس کے اطراف میں کشیدگی پہلے ہی نمایاں ہے۔

سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل اختیار سے متعلق مؤقف درست نہیں۔ امریکی حکام نے اپنی کارروائیوں اور خطے میں موجود بحری سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی بحری آمدورفت اس راستے پر جاری رہی ہے۔ امریکی مؤقف کے مطابق تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذکورہ آبی گزرگاہ پر کسی ایک فریق کا مکمل عملی کنٹرول موجود نہیں۔

امریکی بیان میں ایرانی بحری صلاحیتوں کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ذکر کیا گیا۔ سینٹرل کمانڈ کے مطابق حالیہ مہینوں میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی بحری طاقت کو نقصان پہنچا ہے۔ امریکی حکام نے اسی بنیاد پر ایرانی جانب سے آبنائے ہرمز پر مکمل گرفت کے دعوے کو چیلنج کیا ہے، تاہم ایران کی جانب سے اس مؤقف کے برعکس دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔

سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز سے ہونے والی تیل کی ترسیل کا حوالہ بھی دیا۔ امریکی مؤقف کے مطابق گزشتہ عرصے میں بڑی مقدار میں تیل اسی سمندری راستے سے منتقل ہوا جبکہ متعدد تجارتی جہازوں نے بھی یہاں سے سفر کیا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی جہاز رانی کے تسلسل اور تجارتی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کے لیے امریکی افواج خطے میں نگرانی اور سکیورٹی سے متعلق ذمہ داریاں انجام دیتی رہی ہیں۔

یہ امریکی ردعمل ایرانی فوجی قیادت سے منسوب ان بیانات کے بعد سامنے آیا جن میں آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں ایرانی بحری قوت کے اختیار پر زور دیا گیا تھا۔ اس کے بعد دونوں جانب سے سامنے آنے والے مؤقف نے اس اہم سمندری گزرگاہ کی صورتحال کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا ایک اہم بحری راستہ ہے۔ عالمی توانائی کی تجارت میں اس کی اہمیت غیر معمولی سمجھی جاتی ہے کیونکہ تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی بڑی مقدار اسی راستے سے بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی بڑی رکاوٹ یا کشیدگی کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی توانائی اور تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی اور ایرانی مؤقف میں واضح فرق موجود ہے۔ ایک جانب واشنگٹن بین الاقوامی جہاز رانی کے تسلسل کو اپنی موجودگی کی اہم وجہ قرار دیتا ہے، جبکہ تہران اس خطے میں اپنی بحری صلاحیت اور اثرورسوخ کو اہم قرار دیتا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے بیانات کے درمیان یہ اختلاف آنے والے دنوں میں بھی خطے کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

🍲 پاکستانی پکوان — Recipes

Urdumaaza Information Hub