نیتن یاہو کا متحدہ عرب امارات کا خفیہ دورہ
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز نے ایک اہم انکشاف کیا ہے جس کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حال ہی میں متحدہ عرب امارات کا ایک انتہائی خفیہ دورہ کیا۔ اس دورے کی تفصیلات اب سامنے آ رہی ہیں جو خطے کی سیاست میں نئی بحث کا باعث بن رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو اتوار کے روز ایک نجی طیارے کے ذریعے ابوظہبی پہنچے۔ انہوں نے دن کا زیادہ تر حصہ متحدہ عرب امارات میں گزارا اور وہاں اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے براہِ راست ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد شام کے وقت وہ تل ابیب واپس روانہ ہو گئے۔ اس پوری کارروائی کو مکمل رازداری کے ساتھ انجام دیا گیا اور دونوں ممالک کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
یہ خفیہ ملاقات ایسے حساس وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں ایران سے متعلق سیکیورٹی خدشات جاری ہیں اور اسرائیل و متحدہ عرب امارات کے درمیان دفاعی تعاون کی باتیں پہلے سے گردش کر رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے علاقائی سلامتی، باہمی روابط اور موجودہ چیلنجز پر تفصیلی بات چیت کی۔ نیتن یاہو کے دفتر اور اماراتی وزارتِ خارجہ کی طرف سے فی الحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، جس سے اس دورے کی خفیہ نوعیت واضح ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کی خبریں آتی رہی ہیں۔ ابراہیم معاہدوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں واضح پیش رفت ہوئی ہے، تاہم خفیہ دوروں کی نوعیت اب بھی حساس سمجھی جاتی ہے۔ اس تازہ ترین دورے نے ایک بار پھر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ دونوں ممالک خطے کے بدلتے ہوئے حالات میں باہمی مشاورت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق نیتن یاہو نے نجی طیارے کا استعمال کرتے ہوئے یہ سفر کیا تاکہ عام پروازوں کے ذریعے توجہ نہ مبذول ہو۔ ابوظہبی میں قیام کے دوران انہوں نے صدر شیخ محمد بن زاید کے ساتھ طویل گفتگو کی اور شام کو واپسی کا سفر شروع کر دیا۔ اس طرح کا ایک روزہ خفیہ دورہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اعتماد اور براہِ راست رابطے کی عکاسی کرتا ہے۔
اس خبر کے سامنے آنے کے بعد علاقائی تجزیہ کار اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اس ملاقات کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ چاہے سرکاری سطح پر تصدیق نہ ہو، تاہم یہ واقعہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی اور سیکیورٹی تعلقات اب بھی فعال اور اہم ہیں۔
مجموعی طور پر یہ خفیہ دورہ خطے کی سیاست میں ایک نئی کڑی ثابت ہو سکتا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے باضابطہ بیانات کا انتظار ہے، تاہم رائٹرز کی یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے رہنما اہم معاملات پر براہِ راست بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں