خیبر پختونخوا میں بڑے سانحے کا خدشہ، سہیل آفریدی نے اہم بیان دے دیا
پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں کسی بڑے سانحے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا پہلے بھی مختلف مشکلات سے گزر چکا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں حکومت اور متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرات پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات کرنے چاہییں جن سے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے اثرات صرف ایک علاقے تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کا اثر مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال پر پڑ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے سکیورٹی معاملات میں بروقت فیصلے اور اداروں کے درمیان بہتر رابطہ ضروری ہے۔
خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے سہیل آفریدی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے میں امن و امان کا معاملہ مسلسل اہمیت رکھتا ہے۔ شہریوں کی جانب سے بھی مختلف علاقوں میں سکیورٹی اور تحفظ کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور عوام کے تحفظ کے لیے دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے صرف واقعہ پیش آنے کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے پہلے سے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا زیادہ ضروری ہے۔
سہیل آفریدی کے بیان میں جن خدشات کا ذکر کیا گیا ہے، ان کے حوالے سے کسی مخصوص منصوبے یا ممکنہ واقعے کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔ تاہم ان کے مؤقف نے صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور ممکنہ خطرات سے متعلق بحث کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کر دیا ہے۔
صوبے کے عوام کے لیے بھی امن و امان کی بحالی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ایسے حالات میں حکومتی اداروں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں، عوام کو بروقت معلومات فراہم کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری انتظامات مکمل رکھیں۔
سہیل آفریدی کے تازہ بیان کے بعد اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ صوبائی حکومت اور متعلقہ ادارے سکیورٹی خدشات سے نمٹنے کے لیے آئندہ کیا عملی اقدامات کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پائیدار امن کے لیے مؤثر حکمت عملی اور مسلسل نگرانی کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں