بیٹنگ ڈیلز ٹھکرانے والے محمد رضوان بھی تحقیقات کے دائرے میں آگئے
قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان، جو ماضی میں بیٹنگ اور سرواگیٹ بیٹنگ برانڈز سے متعلق پیشکشیں مسترد کرنے کے باعث نمایاں رہے، اب آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے متعلق ایک تحقیقات کے معاملے میں خود سوالات کی زد میں آگئے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق رضوان نے ماضی میں ایک سرواگیٹ بیٹنگ ادارے کی جانب سے تقریباً 10 کروڑ روپے کی مبینہ اسپانسرشپ پیشکش قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق محمد رضوان نے پاکستان سپر لیگ کے دوران بھی اپنی کِٹ پر سرواگیٹ بیٹنگ اسپانسر کا لوگو استعمال کرنے سے گریز کیا تھا۔ اس معاملے میں ان کا مؤقف یہ رہا کہ وہ بیٹنگ یا ایسے برانڈز کی تشہیر کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ اسی طرح سابق کپتان بابر اعظم کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے کہ انہوں نے کروڑوں روپے مالیت کی ایک مبینہ اسپانسرشپ پیشکش مسترد کی تھی۔
دستاویزی خط و کتابت کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق دونوں کھلاڑیوں کی جانب سے بیٹنگ اور سرواگیٹ بیٹنگ کمپنیوں کی حمایت نہ کرنے کا واضح مؤقف اختیار کیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں سرواگیٹ برانڈز کی جانب سے کھلاڑیوں کی تصاویر کے استعمال سے متعلق بھی اعتراضات سامنے آتے رہے۔
اب محمد رضوان سے متعلق نئی تحقیقات نے معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 31 اگست 2026 کو لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ کے اختتام کے بعد رضوان کے موبائل فون سے متعلق ایک کارروائی کی گئی اور فون ضبط کیے جانے کے بعد اسے پاکستان منتقل کرنے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
تحقیقات سے متعلق جاری کیے گئے نوٹس میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے کا عمومی ذکر موجود ہے، تاہم دستیاب تفصیلات کے مطابق کسی مخصوص میچ یا کسی واضح جرم کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ اسی وجہ سے اس کارروائی کے قانونی دائرہ اختیار اور طریقہ کار سے متعلق مختلف سوالات سامنے آئے ہیں۔
محمد رضوان کی جانب سے ماضی میں سرواگیٹ بیٹنگ کے خلاف اختیار کیے گئے مؤقف کے تناظر میں موجودہ صورتحال کو خاصی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم تحقیقات کے حتمی نتائج سامنے آنے تک کسی بھی الزام کو ثابت شدہ حقیقت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے کارروائی کی مکمل قانونی وجوہات اور طریقہ کار پر مزید وضاحت سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں