تازہ ترین
تاریخ
English Date
ہجری تاریخ
⌛ Pakistan Time

منگل، 22 ستمبر، 2026

صدر اردوان کا کشمیر پر اہم مؤقف، جنوبی ایشیا میں مذاکرات سے امن کی حمایت

Urdu News, Urdu Khabrain, Pakistan News, Pakistan Khabrain, Urdu Sports, International News, Pakistan Currency, Gold Rate, Showbiz, Health, Technology, Poetry and Latest Updates.

اردوان کا اقوام متحدہ میں کشمیر پر واضح مؤقف، جنوبی ایشیا کے تنازعات مذاکرات سے حل کرنے پر زور

نیویارک: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے جنوبی ایشیا کی صورتحال پر گفتگو کی اور مسئلہ کشمیر سمیت خطے کے دیگر تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دیرپا امن اور استحکام کے لیے اختلافات کا راستہ مذاکرات اور سفارت کاری سے نکالا جانا چاہیے۔

جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ترک صدر نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ وسیع تر عالمی امن کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق کشمیر سمیت تمام تنازعات کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرہ کار میں بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

صدر اردوان نے اپنے خطاب میں اس بات پر بھی زور دیا کہ اختلافات کو تصادم کے بجائے مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھانا ہی خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ترکیہ ماضی میں بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے مذاکرات کی حمایت کا اظہار کرتا رہا ہے۔

ترک صدر نے اپنی تقریر میں ترکیہ کے ایشیائی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انقرہ کی جانب سے ایشیا بحرالکاہل کے خطے کے ساتھ روابط کو وسعت دینے کی پالیسی کے تحت مختلف ممالک اور علاقائی تنظیموں کے ساتھ تعاون بڑھایا جا رہا ہے۔

اردوان نے آسیان کے ساتھ ترکیہ کے تعلقات میں پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس شراکت داری کو ڈائیلاگ پارٹنرشپ کی سطح تک لے جانا ایشیا کے ساتھ ترکیہ کے بڑھتے ہوئے سفارتی روابط کی ایک مثال ہے۔

مسئلہ کشمیر کا ذکر ترک صدر کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقاریر کا ایک نمایاں حصہ رہا ہے۔ گزشتہ برس بھی انہوں نے کشمیر کے معاملے کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مذاکرات کی بنیاد پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے بعد ہونے والی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی اہمیت اجاگر کی تھی۔

دوسری جانب بھارت کا مؤقف ہے کہ جموں و کشمیر سے متعلق معاملات پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ نوعیت کے ہیں اور اس معاملے میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی ضرورت نہیں۔ یوں کشمیر کا معاملہ خطے کی سفارتی گفتگو میں بدستور ایک اہم موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔

ترک صدر کے حالیہ خطاب میں بھی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی اہمیت کو نمایاں کیا گیا۔ ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ترکیہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

🍲 پاکستانی پکوان — Recipes

Urdumaaza Information Hub