27 ستمبر کے احتجاج پر اہم پیش رفت، حکومت کی جانب سے ملاقات کی پیشکش
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو وزیراعظم سے ملاقات کی پیشکش کی گئی، تاہم اس کے ساتھ 27 ستمبر کو ہونے والے مارچ یا احتجاج کو مؤخر کرنے کی ضمانت بھی طلب کی گئی۔ ان کے مطابق اپوزیشن وزیراعظم سے ملاقات کے لیے تیار ہے اور بات چیت کے ذریعے سیاسی معاملات کو آگے بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے راجہ ناصر عباس نے بتایا کہ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے وزیراعظم کو پہلے ہی ملاقات کے لیے خط ارسال کیا جا چکا تھا، جس کا جواب بھی موصول ہوا۔ ان کے بقول ملاقات کی جگہ اور دیگر انتظامات کے حوالے سے معاملات تقریباً طے ہو گئے تھے، تاہم بعد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے احتجاج ملتوی کرنے کی شرط سامنے آئی۔
راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ محسن نقوی نے 27 ستمبر کا مارچ مؤخر کرنے کے بدلے وزیراعظم سے ملاقات کروانے کی بات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دوران مثبت رویہ اختیار کیا جاتا ہے تو اپوزیشن بھی آگے بڑھنے کے لیے تیار ہوگی۔ ان کے مطابق ملک میں موجود سیاسی اختلافات کو سنجیدہ اور براہ راست بات چیت کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔
اپوزیشن رہنما نے اس معاملے کو صرف سابق وزیراعظم عمران خان سے متعلق قرار دینے کے بجائے اسے وسیع تر سیاسی مسئلے سے جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان حکومت کی تحویل میں ہیں، اس لیے ان کی صحت، علاج اور بنیادی حقوق کے حوالے سے ذمہ داری بھی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
راجہ ناصر عباس کے مطابق زیر حراست سیاسی رہنما سے اہل خانہ، رشتہ داروں، دوستوں اور سیاسی ساتھیوں کی ملاقات بھی اہم معاملہ ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ملاقات کی سہولت فراہم کرنا کسی سیاسی رعایت کے بجائے قیدی کے بنیادی حقوق سے متعلق معاملہ ہے۔
انہوں نے ملک کی مجموعی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امن و امان، جانی نقصان اور معاشی مشکلات جیسے مسائل کی طرف توجہ دلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سیاسی کشیدگی کم کرنے اور قومی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے سنجیدہ سیاسی رابطہ ضروری ہے۔
دوسری جانب 27 ستمبر کے احتجاج اور حکومت سے ملاقات کے معاملے پر آئندہ دنوں میں ہونے والے سیاسی رابطے اہم ہوں گے۔ فی الحال راجہ ناصر عباس کی جانب سے حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے آمادگی اور احتجاج مؤخر کرنے سے متعلق شرط کا مؤقف سامنے آیا ہے، جبکہ معاملے کی مزید پیش رفت آنے والے سیاسی رابطوں سے واضح ہوگی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں