تازہ ترین
تاریخ
English Date
ہجری تاریخ
⌛ Pakistan Time

منگل، 15 ستمبر، 2026

سادگی کی سیاست: محسن نقوی کا اکانومی کلاس میں سفر اور عوامی ذمہ داری کا پیغام

ہمارے ہاں یہ منظر عام سا لگتا ہے: کوئی وزیر یا اعلیٰ عہدیدار ائیرپورٹ پر پہنچتا ہے، پروٹوکول کی گاڑیاں قطار میں کھڑی ہوتی ہیں، اور وی آئی پی لاؤنج میں اُس کا استقبال ہو رہا ہوتا ہے۔ اسی لیے جب کوئی بااثر شخصیت اس ڈگر سے ہٹ کر کچھ کرتی ہے تو لوگ فوراً نوٹس لیتے ہیں۔ حال ہی میں وفاقی وزیرِ داخلہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی عام مسافروں کے ساتھ اکانومی کلاس میں سفر کرتے دکھائی دیے، اور یہ بات کافی لوگوں کی توجہ کھینچ گئی۔

اب دیکھا جائے تو محسن نقوی کے پاس نجی جیٹ تک رسائی ہے، سرکاری وسائل ان کے ہاتھ میں ہیں، اور اگر وہ چاہیں تو کسی بھی وقت گلف اسٹریم جیسا طیارہ استعمال کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا عام پرواز میں، عام لوگوں کے ساتھ بیٹھنا کوئی مجبوری کا معاملہ نہیں لگتا، بلکہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ محسوس ہوتا ہے۔

پاکستان میں سرکاری وسائل کے غلط استعمال پر بات ہمیشہ سے ہوتی رہی ہے۔ کبھی سرکاری گاڑیوں کے بے جا استعمال پر تنقید، تو کبھی غیر ضروری غیر ملکی دوروں پر اعتراضات۔ عوام اکثر یہی سوال کرتے ہیں کہ آخر ٹیکس کا پیسہ کہاں جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی وزیر کا اکانومی کلاس میں سفر کرنا شاید معمولی سی بات لگے، مگر علامتی طور پر اس کا وزن کافی زیادہ ہے۔

سچ پوچھیں تو عہدہ ہونا اور سادگی اپنانا دو الگ چیزیں ہیں، اور اکثر ان دونوں کا آپس میں تال میل نہیں بیٹھتا۔ طاقت ملتے ہی مراعات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، اور رفتہ رفتہ یہ سب "حق" سمجھا جانے لگتا ہے۔ ایسے میں کوئی شخص جان بوجھ کر ان مراعات سے دور رہے تو یہ بات قابلِ تعریف تو ہے ہی، ساتھ ہی دوسروں کے لیے ایک مثال بھی بن جاتی ہے۔

البتہ ایک بات ذہن میں رکھنی چاہیے — ایک واقعہ سے پورا نظام نہیں بدلتا۔ نہ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سے پروٹوکول کلچر ختم ہو جائے گا۔ لیکن اگر ایسے فیصلے وقتاً فوقتاً دہرائے جاتے رہیں، اور دوسرے عہدیدار بھی اسی راستے پر چلیں، تو شاید آہستہ آہستہ وہ سوچ بدلے جس کے تحت اقتدار کا مطلب تام جھام سمجھا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں یہ منظر عام سا لگتا ہے: کوئی وزیر یا اعلیٰ عہدیدار ائیرپورٹ پر پہنچتا ہے، پروٹوکول کی گاڑیاں قطار میں کھڑی ہوتی ہیں، اور وی آئی پی لاؤنج میں اُس کا استقبال ہو رہا ہوتا ہے۔ اسی لیے جب کوئی بااثر شخصیت اس ڈگر سے ہٹ کر کچھ کرتی ہے تو لوگ فوراً نوٹس لیتے ہیں۔ حال ہی میں وفاقی وزیرِ داخلہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی عام مسافروں کے ساتھ اکانومی کلاس میں سفر کرتے دکھائی دیے، اور یہ بات کافی لوگوں کی توجہ کھینچ گئی۔

اب دیکھا جائے تو محسن نقوی کے پاس نجی جیٹ تک رسائی ہے، سرکاری وسائل ان کے ہاتھ میں ہیں، اور اگر وہ چاہیں تو کسی بھی وقت گلف اسٹریم جیسا طیارہ استعمال کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا عام پرواز میں، عام لوگوں کے ساتھ بیٹھنا کوئی مجبوری کا معاملہ نہیں لگتا، بلکہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ محسوس ہوتا ہے۔

پاکستان میں سرکاری وسائل کے غلط استعمال پر بات ہمیشہ سے ہوتی رہی ہے۔ کبھی سرکاری گاڑیوں کے بے جا استعمال پر تنقید، تو کبھی غیر ضروری غیر ملکی دوروں پر اعتراضات۔ عوام اکثر یہی سوال کرتے ہیں کہ آخر ٹیکس کا پیسہ کہاں جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی وزیر کا اکانومی کلاس میں سفر کرنا شاید معمولی سی بات لگے، مگر علامتی طور پر اس کا وزن کافی زیادہ ہے۔

سچ پوچھیں تو عہدہ ہونا اور سادگی اپنانا دو الگ چیزیں ہیں، اور اکثر ان دونوں کا آپس میں تال میل نہیں بیٹھتا۔ طاقت ملتے ہی مراعات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، اور رفتہ رفتہ یہ سب "حق" سمجھا جانے لگتا ہے۔ ایسے میں کوئی شخص جان بوجھ کر ان مراعات سے دور رہے تو یہ بات قابلِ تعریف تو ہے ہی، ساتھ ہی دوسروں کے لیے ایک مثال بھی بن جاتی ہے۔

البتہ ایک بات ذہن میں رکھنی چاہیے — ایک واقعہ سے پورا نظام نہیں بدلتا۔ نہ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سے پروٹوکول کلچر ختم ہو جائے گا۔ لیکن اگر ایسے فیصلے وقتاً فوقتاً دہرائے جاتے رہیں، اور دوسرے عہدیدار بھی اسی راستے پر چلیں، تو شاید آہستہ آہستہ وہ سوچ بدلے جس کے تحت اقتدار کا مطلب تام جھام سمجھا جاتا ہے۔

بہرحال، قیادت کی اصل پہچان شاید یہی ہے — اختیار رکھنے کے باوجود عاجزی کا مظاہرہ کرنا، اور یہ یاد رکھنا کہ جو پیسہ خرچ ہو رہا ہے وہ عوام کا ہے، کسی کی ذاتی ملکیت نہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

🍲 پاکستانی پکوان — Recipes

Urdumaaza Information Hub