حکومت کا تحریک انصاف کے احتجاج کیلئے فوج تعینات نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے آنے والے احتجاج اور ممکنہ لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے فوج کو تعینات نہ کرنے کا واضح فیصلہ کر لیا ہے۔ اس بار سیکیورٹی کے معاملات کو پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ذریعے ہی سنبھالا جائے گا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزارت داخلہ نے اس موقع پر پاکستان آرمی کی خدمات حاصل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ امن و امان قائم رکھنے اور احتجاج کو کنٹرول کرنے کے لیے موجودہ سول فورسز ہی کافی ہیں۔
وزیر مملکت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس وقت تعلیمی اداروں، تجارتی مراکز یا شاپنگ مالز کو بند کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ حکومت کا ارادہ ہے کہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی اور کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں۔ نقل و حرکت میں کسی قسم کی غیر ضروری رکاوٹ پیدا نہیں ہونے دی جائے گی۔
حکومت کے اس فیصلے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ احتجاج کو سول انتظامیہ کے ذریعے سنبھالنے پر یقین رکھتی ہے اور فوج کو اس معاملے میں ملوث کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ طلال چوہدری نے کہا کہ پولیس، رینجرز اور ایف سی کی موجودہ صلاحیت پر مکمل انحصار کیا جا رہا ہے اور اضافی نفری کی مدد سے صورتحال کو قابو میں رکھا جائے گا۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو احتجاج اور لانگ مارچ کا اعلان کیا ہوا ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور کوئی بھی غیر قانونی سرگرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیر مملکت نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے معمولات جاری رکھیں اور غیر ضروری افواہوں سے بچیں۔ حکومت کی ترجیح امن و امان کو برقرار رکھنا اور شہریوں کی سہولت کو یقینی بنانا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں