تازہ ترین
تاریخ
English Date
ہجری تاریخ
⌛ Pakistan Time

جمعہ، 25 ستمبر، 2026

لانگ مارچ پر حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان لفظی جنگ تیز

Urdu News, Urdu Khabrain, Pakistan News, Pakistan Khabrain, Urdu Sports, International News, Pakistan Currency, Gold Rate, Showbiz, Health, Technology, Poetry and Latest Updates.

اسلام آباد اور پشاور میں سیاسی سرگرمیوں کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے معاملے پر حکومت اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کے درمیان بیانات کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کے حوالے سے سامنے آنے والی صورتحال پر تنقید کی، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ ان کی جماعت مارچ کے ارادے سے پیچھے نہیں ہٹی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ ان کے مطابق تحریک انصاف لانگ مارچ کی تیاری نہیں کر سکی اور اسی وجہ سے احتجاج کے معاملے سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت پر دہشت گردی سے متعلق معاملات میں مؤثر کارروائی نہ کرنے کے الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ صوبے میں امن و امان برقرار رکھنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں مختلف سیاسی جماعتوں کو دہشت گردی کے واقعات کا سامنا رہا ہے، تاہم ان کے بقول صوبائی حکومت کو امن و امان کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کے حوالے سے عملی اقدام کرنے کا چیلنج بھی دیا۔

دوسری جانب پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ ضرور ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں، سڑکوں پر کیلیں لگائی جائیں یا کنٹینرز رکھے جائیں، ان کی جماعت اپنے اعلان کردہ احتجاجی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے لانگ مارچ کی حتمی تاریخ اور تفصیلی لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا۔ اسی دوران تحریک انصاف سے منسلک بعض سوشل میڈیا صفحات اور واٹس ایپ گروپس میں مارچ کو اکتوبر تک مؤخر کیے جانے سے متعلق غیرمصدقہ اطلاعات بھی گردش کرتی رہیں، جن کی سرکاری طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔

سہیل آفریدی کے مطابق پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس جاری ہے اور اس مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت اس مرتبہ احتجاج کے لیے نکلے گی تو موجودہ سیاسی نظام کے خلاف اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خیبرپختونخوا اور دیگر صوبوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق صوبے کی سرحد پر رکاوٹیں کھڑی کیے جانے، سرکاری اہلکاروں کی آمدورفت اور دیگر اقدامات نے کئی سوالات پیدا کیے ہیں۔

سہیل آفریدی نے میڈیا کوریج سے متعلق بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں یہ اطلاع ملی ہے کہ ان کی پریس کانفرنس کو ٹی وی چینلز پر نشر نہ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ انہوں نے بعض صوبائی وزرا کو مبینہ طور پر سادہ لباس افراد کے ذریعے اٹھائے جانے کے دعوے بھی کیے اور صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بتایا کہ وہ چارسدہ روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ لاپتہ صوبائی وزیر فضل شکور کے حجرے میں جائیں گے اور کارکنوں سے ملاقات کریں گے۔ یوں لانگ مارچ کے معاملے پر وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں، جبکہ احتجاج کی حتمی تاریخ اور عملی حکمت عملی کے حوالے سے مزید وضاحت کا انتظار ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

🍲 پاکستانی پکوان — Recipes

Urdumaaza Information Hub