ایران کا امریکہ کو دوٹوک جواب، دوبارہ حملہ ہوا تو جنگ کا دائرہ مزید پھیلنے کا عندیہ
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے دوران تہران کی جانب سے ایک مرتبہ پھر سخت مؤقف سامنے آیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے نتیجے میں اپنی پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع اور اس کے ممکنہ اثرات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے امریکہ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق ایران نے موجودہ جنگ کا آغاز نہیں کیا اور نہ ہی وہ کسی بڑی طاقت کی دھمکی سے اپنے مؤقف سے دستبردار ہوگا۔ ایرانی قیادت کی جانب سے یہ پیغام ایسے ماحول میں دیا گیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی بات بھی سامنے آ رہی ہے۔
ایرانی صدر نے امریکہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے آغاز میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت بھی اسی کشیدگی کا حصہ تھی۔ انہوں نے اس کارروائی کو ریاستی دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوششوں کے باوجود تہران اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی ایران کے حوالے سے سخت بیان سامنے آ چکا ہے۔ جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران امریکی صدر نے ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کے امکان کا ذکر کیا، تاہم بعد ازاں تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کو مثبت پیش رفت قرار دینے کی بات بھی کی گئی۔
اس صورتحال میں ایران کی جانب سے سامنے آنے والا ایک اور بیان خطے میں جاری کشیدگی کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کے سینئر مشیر اور سابق پاسداران انقلاب کمانڈر یحییٰ رحیم صفوی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوسکتا ہے۔
رحیم صفوی کے مطابق موجودہ تنازع پہلے ہی خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر تک اثر انداز ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی نئے حملے کی صورت میں ایران کی جانب سے ردعمل کا دائرہ بحرِ ہند اور اس سے آگے تک پھیلنے کا امکان موجود ہے۔
ایران کی جانب سے آنے والے ان بیانات نے خطے کی صورتحال پر ایک بار پھر عالمی توجہ مرکوز کر دی ہے۔ ایک طرف عسکری کشیدگی میں اضافے کے خدشات موجود ہیں تو دوسری جانب مذاکرات کا راستہ بھی مکمل طور پر بند دکھائی نہیں دیتا۔ موجودہ صورتحال میں آئندہ چند دن دونوں فریقوں کے بیانات اور عملی اقدامات کے حوالے سے اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں