ایف بی آر کا انکم ٹیکس نظام مزید ڈیجیٹل بنانے کا منصوبہ، نئے قواعد کا مسودہ جاری
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس رولز 2002 میں مزید تبدیلیوں کی تجویز دیتے ہوئے نیا مسودہ جاری کردیا ہے۔ مجوزہ ترامیم کا مقصد ٹیکس سے متعلق بعض اہم معاملات کو زیادہ منظم اور ڈیجیٹل طریقے سے انجام دینا ہے، جبکہ مسودے میں ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کے طریقہ کار میں بھی نمایاں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ مسودے کے مطابق مقررہ مدت کے بعد انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والے افراد کے لیے ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل ہونے کے طریقہ کار کو بھی نئے انداز میں ترتیب دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس حوالے سے عوام اور متعلقہ حلقوں سے اعتراضات اور تجاویز طلب کی گئی ہیں، جنہیں مقررہ قانونی مدت کے اندر بورڈ کے سامنے پیش کیا جاسکے گا۔
مجوزہ قواعد میں غیر مقیم جہاز مالکان، چارٹررز اور مجاز شپنگ ایجنٹس کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 143 کے تحت ریٹرن فائل کرنے کا عمل الیکٹرانک بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے ایف بی آر کے آئی رس نظام کو پاکستان سنگل ونڈو کے ساتھ مزید مربوط کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
مجوزہ طریقہ کار کے تحت پاکستان سنگل ونڈو کو موصول ہونے والی ویسل انٹی میشن رپورٹ کی معلومات الیکٹرانک طور پر آئی رس تک پہنچائی جائیں گی۔ ان معلومات میں جہاز کی شناخت، آمد و روانگی سے متعلق تفصیلات، وی آئی آر نمبر اور متعلقہ شپنگ ایجنٹس یا دیگر فریقوں کے ٹیکس شناختی نمبرز شامل ہوں گے۔
نئے نظام میں متعلقہ معلومات کی بنیاد پر الیکٹرانک ریٹرن تیار کرنے کی تجویز ہے۔ ٹیکس ادائیگی کے لیے مقررہ طریقہ استعمال کیا جائے گا اور ادائیگی مکمل ہونے کے بعد اس کا ریکارڈ بھی ریٹرن کے ساتھ خودکار طور پر منسلک کیا جاسکے گا۔ اس طرح کاغذی کارروائی کم کرنے اور معلومات کے تبادلے کو تیز بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
مسودے میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ریٹرن جمع کرانے سے قبل متعلقہ واجبات کی ادائیگی اور ضروری دستاویزات کی تکمیل یقینی بنائی جائے۔ بعض صورتوں میں ریٹرن جمع کرانے کے لیے توسیع طلب کرنے کا طریقہ بھی واضح کیا گیا ہے، جس کے لیے متعلقہ فریق کو وجہ، متوقع ٹیکس اور مقررہ شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
ایف بی آر کے مطابق مجوزہ ترامیم ابھی حتمی قواعد کی حیثیت نہیں رکھتیں بلکہ عوامی اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی رائے کے لیے جاری کی گئی ہیں۔ موصول ہونے والی تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد ہی قواعد کو حتمی شکل دینے کا مرحلہ آگے بڑھایا جائے گا۔
نئے طریقہ کار سے ٹیکس معلومات کی نگرانی، ادائیگیوں کے ریکارڈ اور متعلقہ اداروں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کو زیادہ مربوط بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، جس سے ایف بی آر کے ٹیکس انتظامی نظام میں مزید ڈیجیٹل تبدیلی آنے کا امکان ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں