سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، ریاض سمیت اہم مقامات نشانے پر
یمن میں جاری لڑائی کے دوران خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جن میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور خمیس مشیط کے فوجی اڈے سمیت متعدد مقامات کو ہدف بنانے کی بات کی گئی ہے۔
حوثیوں کے عسکری ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی جانب متعدد ڈرون بھیجے گئے۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کے نتیجے میں ایئرپورٹ کی فضائی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ تاہم سعودی حکام کی جانب سے ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے اس دعوے کی فوری طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔
حوثی ترجمان نے مزید کہا کہ ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور خمیس مشیط ایئر بیس کو بھی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے ریاض کے شمال میں ایک بیلسٹک میزائل کو روکنے اور تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں واقع بعض فوجی تنصیبات کو بھی حملوں کا ہدف قرار دیا گیا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے یہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں دوبارہ شدت پیدا ہوئی ہے۔
اس سے قبل سعودی عرب کے جازان اور نجران کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کو بھی میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، جن میں تین افراد کے زخمی ہونے اور محدود نقصان کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ سعودی حکام نے مسافروں اور فضائی عملے کے تحفظ کے لیے سکیورٹی اقدامات مزید سخت کرنے شروع کیے ہیں۔
تازہ واقعات نے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش بڑھا دی ہے۔ خاص طور پر ہوائی اڈوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے دعووں کے باعث شہری فضائی سفر اور علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب یمن میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث مستقبل قریب میں مزید حملوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور فریقین کی جانب سے سامنے آنے والے دعووں کی مکمل آزادانہ تصدیق ہر معاملے میں فوری طور پر ممکن نہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں