ننھا چراغ اور پراسرار دروازہ
گاؤں کے کنارے ایک پرانا گھر تھا، جس میں برسوں سے کوئی نہیں رہتا تھا۔ مگر ہر رات اس کی کھڑکی سے چراغ کی روشنی دکھائی دیتی تھی! گاؤں کے بچے اسے بھوتوں کا گھر کہتے تھے، لیکن دس سالہ حارث کے ذہن میں ایک سوال تھا: اگر وہاں کوئی نہیں رہتا تو چراغ کون جلاتا ہے؟
ایک شام حارث اپنے دوست بلال کے ساتھ گھر واپس جا رہا تھا کہ انہیں ایک بوڑھا شخص درخت کے نیچے پریشان بیٹھا دکھائی دیا۔ اس کے ہاتھ میں خالی لالٹین تھی۔
’’بیٹا، میری دوائیوں کی تھیلی اس پرانے گھر میں رہ گئی ہے،‘‘ بوڑھے نے کہا، ’’کیا تم اسے ڈھونڈنے میں میری مدد کرو گے؟‘‘
بلال گھبرا گیا۔ ’’وہاں جانا خطرناک ہے! لوگ کہتے ہیں کہ اس گھر میں بھوت ہے۔‘‘
حارث نے ٹارچ نکالی اور کہا، ’’صرف افواہوں سے حقیقت معلوم نہیں ہوتی۔ ہم احتیاط سے دیکھیں گے۔‘‘
دونوں گھر کے دروازے تک پہنچے۔ دروازہ دھکیلتے ہی چرچراہٹ کی آواز گونجی۔ اندر ایک چراغ جل رہا تھا۔ اچانک اوپر سے زور دار دھم کی آواز آئی!
بلال نے حارث کا بازو پکڑ لیا۔ ’’چلو یہاں سے بھاگتے ہیں!‘‘
حارث بھی ڈرا ہوا تھا، مگر اس نے ٹارچ کی روشنی اوپر ڈالی۔ ایک کھڑکی کھلی تھی اور ہوا سے لکڑی کا صندوق فرش پر گر گیا تھا۔ یہ آواز اسی کی تھی!
قریب ہی انہیں کپڑے کی ایک تھیلی ملی۔ اس میں بوڑھے شخص کی دوائیاں تھیں۔ ساتھ پڑے کاغذ سے معلوم ہوا کہ وہ شخص گاؤں کے پرانے کتب خانے کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ وہ ہر شام چراغ اس لیے جلاتا تھا تاکہ اندھیرے میں گزرنے والے مسافروں کو راستہ دکھائی دے۔
حارث مسکرایا۔ ’’جسے ہم بھوتوں کا گھر سمجھ رہے تھے، وہ تو دوسروں کی مدد کے لیے روشن کیا جاتا تھا!‘‘
دونوں بچے تھیلی لے کر بوڑھے کے پاس پہنچے۔ اس نے خوش ہو کر انہیں دعائیں دیں۔ اگلے دن گاؤں والوں نے مل کر گھر صاف کیا اور وہاں ایک چھوٹا سا کتب خانہ بنا دیا۔ اب وہی گھر بچوں کی پسندیدہ جگہ بن چکا تھا۔
کہانی کا سبق
سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کے بجائے حقیقت جاننے کی کوشش کریں۔ خوف کے وقت سمجھ داری سے کام لیں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں