خیبرپختونخوا میں گورنر کے سیکیورٹی اجلاس پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا آئینی اعتراض
خیبرپختونخوا میں سیاسی اور انتظامی سطح پر سیکیورٹی سے متعلق اختیارات کا معاملہ ایک مرتبہ پھر زیر بحث آگیا ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس حوالے سے حکومت کا مؤقف سامنے رکھا اور گورنر کے سیکیورٹی اجلاس کی صدارت پر اعتراض کیا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں آئینی حدود کو واضح رکھنا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے لیے صوبائی حکومت اس معاملے پر ایڈووکیٹ جنرل سے قانونی رائے لینے کا ارادہ رکھتی ہے، تاکہ آئندہ حکومتی اقدامات کسی ابہام کے بغیر آئین اور قانون کے مطابق کیے جاسکیں۔
سہیل آفریدی نے امن و امان کی صورتحال کو صوبائی حکومت کی اہم ذمہ داری قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ سیکیورٹی کے معاملے میں انتظامی سطح پر کسی قسم کی غفلت کی گنجائش نہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کے ساتھ ساتھ ہر ادارے کے آئینی دائرہ اختیار کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
کابینہ اجلاس کے دوران صوبے کی مالی صورتحال بھی تفصیلی گفتگو کا حصہ بنی۔ وزیراعلیٰ نے خصوصاً قبائلی اضلاع سے متعلق مالی واجبات کا ذکر کرتے ہوئے وفاق سے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا کو اس کے حصے کی رقوم کی فراہمی میں تاخیر ختم کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد صوبے پر اضافی ذمہ داریاں آئیں اور ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے مناسب مالی وسائل ناگزیر ہیں۔ صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ ان علاقوں سے متعلق مالی معاملات کو محض وقتی اقدامات کے بجائے ایک واضح اور قابلِ عمل طریقہ کار کے تحت حل کیا جائے۔
وزیراعلیٰ نے بے گھر افراد کی صورتحال کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق مشکل حالات سے متاثرہ شہریوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے اپنے وسائل استعمال کیے ہیں۔ ایسے اخراجات کے تناظر میں وفاقی حکومت سے مالی تعاون اور صوبے کے جائز حقوق کی فراہمی کا مطالبہ مزید اہم ہوجاتا ہے۔
سہیل آفریدی نے قومی مالیاتی کمیشن یعنی این ایف سی میں خیبرپختونخوا کے حصے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کے مؤقف کے مطابق صوبے کو درپیش امن و امان اور انتظامی چیلنجز کے باعث مالی وسائل کی ضرورت بڑھ گئی ہے، اس لیے مرکز اور صوبے کے درمیان مالی معاملات کا ایسا حل ضروری ہے جو عملی طور پر صوبے کی ضروریات پوری کرسکے۔
خیبرپختونخوا گزشتہ کئی برس سے سیکیورٹی، نقل مکانی، بحالی اور مالی دباؤ جیسے مختلف مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ان حالات میں وفاقی سطح پر صوبے کے ساتھ مالی اور انتظامی تعاون مؤثر انداز میں جاری رہنا چاہیے۔
وزیراعلیٰ کے تازہ مؤقف کے بعد گورنر کے سیکیورٹی اجلاس کی آئینی حیثیت، صوبے کے مالی واجبات اور این ایف سی سے متعلق معاملات مزید توجہ حاصل کر گئے ہیں۔ قانونی رائے اور وفاقی حکومت کے ساتھ آئندہ رابطوں سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ ان معاملات کو کس طریقے سے آگے بڑھایا جاتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں