جوکووچ نے بیجنگ میں تاریخ رقم کردی، کیریئر کا 102واں ٹائٹل اپنے نام کرلیا
سربیا کے عالمی شہرت یافتہ ٹینس اسٹار نوواک جوکووچ نے ایک بار پھر اپنی غیر معمولی صلاحیت اور طویل عرصے تک اعلیٰ سطح پر کھیلنے کی صلاحیت کا ثبوت دے دیا۔ انہوں نے چین اوپن کے فائنل میں آسٹریلیا کے ایلکس ڈی مینار کے خلاف کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنے کیریئر کا 102واں اے ٹی پی ٹائٹل جیت لیا۔
بیجنگ میں کھیلے گئے فائنل کا آغاز دونوں کھلاڑیوں کے درمیان سخت مقابلے سے ہوا۔ پہلے سیٹ میں کسی کو واضح برتری حاصل نہ ہوسکی اور فیصلہ ٹائی بریک پر پہنچا، جہاں جوکووچ نے اہم لمحات میں بہتر کھیل پیش کرتے ہوئے سیٹ اپنے نام کرلیا۔ پہلے سیٹ کا اسکور 7-6 رہا۔
دوسرے سیٹ کے آغاز میں ڈی مینار نے ایک گیم جیتا، تاہم جسمانی تکلیف کے باعث وہ مقابلہ جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہ رہے۔ آسٹریلوی کھلاڑی نے میچ سے دستبرداری اختیار کی، جس کے بعد جوکووچ کو فاتح قرار دے دیا گیا۔ یوں سربین اسٹار نے ساتویں مرتبہ چین اوپن کا ٹائٹل حاصل کرلیا۔
اس کامیابی کی خاص بات یہ بھی ہے کہ جوکووچ بیجنگ میں اب تک ناقابل شکست ہیں۔ چین اوپن میں ان کی مسلسل فتوحات کی تعداد 34 تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے اس مقام پر اپنے شاندار ریکارڈ کو برقرار رکھتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ بیجنگ ان کے لیے انتہائی کامیاب میدان رہا ہے۔
102واں ٹائٹل جیتنے کے بعد جوکووچ اب مجموعی اے ٹی پی ٹائٹلز کے اعتبار سے راجر فیڈرر کے مزید قریب پہنچ گئے ہیں۔ فیڈرر کے نام 103 ٹائٹلز ہیں، جبکہ سب سے زیادہ ٹائٹلز جیتنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں جمی کونرز 109 کامیابیوں کے ساتھ سرفہرست ہیں۔
جوکووچ کی تازہ کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کہ انہوں نے مسلسل 21 ویں سیزن میں کم از کم ایک سنگلز ٹائٹل جیتنے کا سلسلہ برقرار رکھا ہے۔ 39 سال کی عمر میں حاصل ہونے والی یہ کامیابی ان کے طویل اور شاندار کھیل کے سفر میں ایک اور نمایاں سنگ میل بن گئی ہے۔
موجودہ سیزن میں جسمانی مسائل اور مشکلات کے باوجود جوکووچ نے بیجنگ میں خود کو دوبارہ مضبوط انداز میں پیش کیا۔ چین اوپن کا یہ ٹائٹل ان کے لیے صرف ایک اور ٹرافی نہیں بلکہ اس بات کا اظہار بھی ہے کہ تجربہ کار سربین کھلاڑی اب بھی بڑے مقابلوں میں فیصلہ کن کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جوکووچ کی نظریں اب سیزن کے اگلے اہم مرحلے پر ہیں، جہاں ان کی فارم اور فٹنس آئندہ مقابلوں میں بھی توجہ کا مرکز رہے گی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں