ہم 9 مئی کو دوبارہ نہ ہونے دیں گے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیں گے، سہیل آفریدی
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ 9 مئی جیسا سانحہ دوبارہ پیش نہیں آنے دیا جائے گا اور نہ ہی کسی کو اس طرح کی سازش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جن لوگوں نے سی سی ٹی وی فوٹیجز چرائی تھیں، وہی اصل میں 9 مئی کے واقعات کے ذمہ دار ہیں۔
سہیل آفریدی نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی اور عوام میں مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ پاکستان کا آئین ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔ اسی حق کے تحت 4 اکتوبر کو دن ایک بجے لکی مروت کے گنڈی چوک سے عوامی قافلہ اپنا سفر شروع کرے گا جو آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک جاری رہے گا۔
دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ اپنے ہی لوگوں پر فوجی آپریشنز کرنا اور انہیں بے گھر کرنا کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ ڈرون حملوں اور نام نہاد کولیٹرل ڈیمج سے دہشت گردی کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہے۔ یہ موقف صرف تحریک انصاف کا نہیں بلکہ صوبائی اسمبلی کے جرگے میں تمام مکاتب فکر کے مشترکہ فیصلے کا حصہ ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ رجیم چینج کے بعد خیبر پختونخوا میں دہشت گردی جان بوجھ کر کیوں مسلط کی گئی؟ صوبے کا خریدا ہوا اسلحہ پولیس تک کیوں نہیں پہنچنے دیا جا رہا؟ پولیس بغاوت پر کیوں مجبور ہوئی؟ بلوچستان اور وفاقی حکومت ایک صفحے پر ہیں تو وہاں امن کیوں نہیں؟
سہیل آفریدی نے زور دے کر کہا کہ خود کو عقلِ کل سمجھنے والے پہلے بھی غلط ثابت ہوئے اور آج بھی غلط ہیں۔ جب تک وہ اپنی ناکام پالیسیاں تبدیل نہیں کرتے، غلطیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ تاہم صوبے کی قیادت اور عوام 9 مئی جیسے واقعات کو دوبارہ رونما نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے کی اجازت دیں گے۔
4 اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہونے والا یہ احتجاجی سفر آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے ہوگا۔ تمام پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ وہ اپنے آئینی حق کا دفاع کریں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں