سیاسی کشیدگی ختم کرنے کی اپیل، خواجہ سعد رفیق نے مذاکرات پر زور دے دیا
مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ملک میں جاری سیاسی تناؤ اور بڑھتے ہوئے معاشی مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی فریقین کو باہمی اختلافات کم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ضد اور محاذ آرائی کے بجائے سنجیدہ سیاسی رابطے اور مذاکرات ہی مسائل کے حل کی جانب پیش رفت کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
خواجہ سعد رفیق نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں حکومت اور احتجاج کرنے والی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے سے رابطہ برقرار رکھیں اور بات چیت کا سلسلہ ختم نہ ہونے دیں۔ ان کے مطابق اگر دونوں جانب مسئلے کو حل کرنے کی حقیقی خواہش موجود ہو تو اختلافات کے باوجود کوئی نہ کوئی قابلِ عمل راستہ تلاش کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل ٹکراؤ سے کسی ایک فریق کی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ اس کے اثرات پورے ملک کو برداشت کرنا پڑیں گے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کو مذاکرات کے لیے پہل کرنی چاہیے اور سیاسی معاملات کو مزید بگاڑ سے بچانے کے لیے رابطے کا راستہ کھلا رکھنا چاہیے۔ انہوں نے جانی و مالی نقصان سے گریز کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنا کسی بھی صورت مناسب نہیں۔ ایک دوسرے کی عزت اور سیاسی حیثیت کا خیال رکھنا جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے عوام کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک پہلے ہی مہنگائی، روزگار کے مسائل، ناانصافی اور دہشت گردی سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں عام آدمی کے لیے روزمرہ زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق عوام کو سیاسی بیان بازی اور باہمی الزام تراشی کے بجائے اپنے مسائل کے عملی حل کی ضرورت ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ مسائل کو بروقت سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو وقت گزرنے کے ساتھ صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معمولی نوعیت کے اختلافات بھی اگر مسلسل نظر انداز ہوتے رہیں تو بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیں، جس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
خواجہ سعد رفیق نے معاشرے کے باشعور افراد، سول سوسائٹی اور مختلف طبقات سے بھی اپیل کی کہ وہ موجودہ حالات میں اپنا کردار ادا کریں اور ملک میں سیاسی برداشت، مکالمے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کے فیصلے مستقبل کی تاریخ کا حصہ بنیں گے، اس لیے تمام متعلقہ فریقوں کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جن کے اثرات آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں