خیبرپختونخوا میں رابطوں کا بحران؟ پشاور سمیت کئی شہروں میں موبائل اور انٹرنیٹ متاثر ہونے کی اطلاعات
خیبرپختونخوا میں سیاسی صورتحال کے دوران مواصلاتی رابطوں میں رکاوٹوں کی اطلاعات نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ پشاور سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں موبائل فون سگنلز اور انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں، جس سے معمول کے رابطوں اور معلومات تک رسائی کے حوالے سے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے دوران مواصلاتی نظام میں مشکلات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رابطوں میں رکاوٹ کے باعث شہریوں کے لیے ایک دوسرے سے فوری رابطہ کرنا اور حالات سے متعلق تازہ معلومات حاصل کرنا دشوار ہو سکتا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سابق صوبائی حکومت کے بعض عہدیداروں اور سیاسی رہنماؤں تک براہ راست رسائی متاثر ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں ان کے مؤقف اور بیانات کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر انحصار بڑھ جاتا ہے، تاہم انٹرنیٹ کی دستیابی محدود ہونے کی صورت میں معلومات کی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب بعض سرکاری ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں صوبے کے کچھ علاقوں میں مٹھائیاں تقسیم کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم رابطوں میں مشکلات اور آزاد ذرائع سے معلومات کی محدود دستیابی کے باعث ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ اس لیے ان دعوؤں کو حتمی حقیقت سمجھنے کے بجائے مزید تصدیق کا انتظار ضروری ہے۔
بنوں کے حوالے سے موصول ہونے والی اطلاعات میں مقامی بازار معمول کے مطابق کھلے ہونے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق وہاں گورنر راج یا ایمرجنسی کے حق اور مخالفت میں کسی بڑے مظاہرے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ تاہم کسی ایک ضلع کی صورتحال کو پورے صوبے کی صورت حال کا مکمل عکاس قرار نہیں دیا جا سکتا۔
موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مواصلاتی خدمات کب مکمل طور پر بحال ہوں گی اور شہریوں کو تازہ معلومات تک معمول کے مطابق رسائی کب ملے گی۔ موبائل اور انٹرنیٹ سروس کی دستیابی نہ صرف ذاتی رابطوں بلکہ کاروبار، صحافت اور روزمرہ معاملات کے لیے بھی اہم ہے۔ آئندہ صورتحال کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے کے لیے متعلقہ حکام کی وضاحت اور قابلِ اعتماد ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات کا انتظار کرنا ہوگا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں