حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کا فیصلہ کن دور آج ہوگا، حتمی فیصلوں کا قوی امکان
اسلام آباد: وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان سیاسی بحران کو حل کرنے کی کوششوں کا سب سے اہم اور حساس مرحلہ آج شروع ہو رہا ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا فیصلہ کن دور متوقع ہے جس میں حتمی نتائج نکلنے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ حکومت نے اپوزیشن کو اپنے تمام اہم فیصلوں سے مکمل طور پر مطلع کر دیا ہے اور اب پی ٹی آئی آج کے اس اہم اجلاس میں اپنا حتمی جواب پیش کرے گی۔
باخبر حلقوں کے مطابق گزشتہ روز ہونے والی ملاقات میں دونوں جانب سے کوئی مشترکہ سمجھوتہ سامنے نہیں آ سکا تھا۔ حکومتی وفد کا واضح موقف یہ تھا کہ تمام احتجاجی سرگرمیاں اور لانگ مارچ بلا شرط ختم کیا جائے جبکہ تحریک انصاف کی ٹیم نے بانی پارٹی عمران خان تک رسائی اور ان سے ملاقاتوں کی سہولت کو بنیادی مطالبہ قرار دیا۔ اس بنیادی اختلاف کی وجہ سے مذاکرات کی کامیابی اب آج کے دور پر منحصر ہو گئی ہے۔
حکومت نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ دباؤ یا انتشار کی سیاست کے ذریعے کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ اگر اپوزیشن اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہی تو آئین کے آرٹیکل دو سو بتیس کے تحت ایمرجنسی یا آرٹیکل دو سو چونتیس کے ذریعے گورنر راج جیسی سخت کارروائیوں کے اختیارات استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ حکومتی نمائندوں نے یہ بھی واضح کیا کہ لانگ مارچ کی غیر مشروط منسوخی کے بغیر کوئی بھی یقین دہانی نہیں کی جائے گی اور حکومت کسی قسم کی ڈکٹیشن قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
اس کے علاوہ حکومتی وفد نے خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی صورتحال کو صوبائی حکومت کی ناکامی قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں کو کسی قسم کی سہولت فراہم کرنا بند کیا جائے اور ان کے خلاف کھل کر کارروائی کی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر آج کے مذاکرات میں پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار رکھا تو مذاکرات فوری طور پر ختم کر دیے جائیں گے اور ریاست اپنی رٹ بحال کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے میں آزاد ہوگی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آج کا دور مذاکرات دونوں فریقوں کے لیے آخری اہم موقع ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی مثبت پیش رفت ہوئی تو ملک میں سیاسی استحکام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے ورنہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو جانے کا خدشہ ہے۔ دونوں جانب سے حتمی فیصلوں کا انتظار ہے اور آج کے نتائج سے سیاسی منظرنامہ واضح طور پر متاثر ہوگا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں