انسان کی دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟ اسلام کی روشنی میں چند اہم باتیں
انسان جب کسی مشکل میں گھرا ہو، کسی خواہش کی تکمیل چاہتا ہو یا دل میں کوئی ایسی آرزو رکھتا ہو جس کے پورا ہونے کی امید اسے اللہ تعالیٰ سے ہو، تو وہ بار بار دعا کرتا ہے۔ لیکن جب حالات فوری طور پر تبدیل نہیں ہوتے تو دل میں ایک سوال پیدا ہونے لگتا ہے: میری دعا قبول کیوں نہیں ہو رہی؟
اسلام ہمیں امید، صبر اور اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ دعا کا جواب ہمیشہ ہماری توقع کے مطابق یا ہماری مقرر کردہ مدت میں سامنے آئے، یہ ضروری نہیں۔ اس لیے دیر ہونے کو اللہ کی ناراضی یا دعا کے رد ہونے کی یقینی علامت سمجھنا درست نہیں۔
دعا کے بارے میں قرآن کیا کہتا ہے؟
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
’’اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو بے شک میں قریب ہوں، دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔‘‘
سورۃ البقرہ، آیت 186
یہ آیت بندے کو اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط رکھنے اور اسی سے مانگتے رہنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ دعا کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟
1۔ دعا میں جلد بازی سے بچیں
بعض اوقات انسان چند مرتبہ دعا کرنے کے بعد مایوس ہونے لگتا ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے مطابق بندے کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے، جب تک وہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے اور جلد بازی کرتے ہوئے یہ نہ کہنے لگے کہ میں نے دعا کی مگر میری دعا قبول نہیں ہوئی۔ (صحیح بخاری: 6340؛ صحیح مسلم: 2735)
اس تعلیم سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا کے معاملے میں صبر اور ثابت قدمی اہم ہیں۔ انسان کو اپنی دعا کا سلسلہ محض اس وجہ سے نہیں روکنا چاہیے کہ مطلوبہ نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
2۔ حلال رزق اور پاکیزہ کمائی کی اہمیت
رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو طویل سفر میں گرد آلود حالت میں ہاتھ اٹھا کر یا رب، یا رب کہتا ہے، لیکن اس کا کھانا، پینا اور لباس حرام ہوتا ہے اور اس کی پرورش حرام سے ہوئی ہوتی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے سوال فرمایا کہ ایسے شخص کی دعا کیسے قبول ہو؟ (صحیح مسلم: 1015)
یہ حدیث حلال کمائی اور پاکیزہ زندگی کی اہمیت واضح کرتی ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ اپنی آمدنی، معاملات اور دوسروں کے حقوق کے بارے میں محتاط رہے اور اگر کسی کا حق دبایا ہو تو اسے واپس کرنے کی کوشش کرے۔ تاہم کسی خاص شخص کی دعا قبول نہ ہونے کی وجہ اس کے رزق کو قرار دینا درست نہیں، کیونکہ اس کا مکمل علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔
3۔ دعا کے ساتھ کوشش بھی ضروری ہے
اسلام انسان کو صرف خواہشات پر اکتفا کرنے کے بجائے جائز کوشش کرنے کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ روزگار کی دعا کرنے والا شخص ملازمت کی تلاش بھی کرے، کامیابی مانگنے والا اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرے اور کسی مشکل کا حل چاہنے والا مناسب عملی اقدامات بھی اختیار کرے۔
دعا اور کوشش ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ بندہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہے اور نتیجہ اس کے سپرد کرتا ہے۔
4۔ گناہ اور دوسروں کے حقوق سے بچیں
دعا میں ایسی چیز نہ مانگی جائے جو گناہ یا کسی دوسرے کے حق کی پامالی پر مشتمل ہو۔ اسی طرح ظلم، دھوکا، بددیانتی اور لوگوں کو نقصان پہنچانے سے بچنا چاہیے۔ توبہ، اصلاح اور حقوق العباد کی ادائیگی مسلمان کی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مشکل میں مبتلا شخص لازماً کسی گناہ کی سزا بھگت رہا ہے۔ مشکلات انبیائے کرام علیہم السلام سمیت نیک لوگوں کو بھی پیش آئیں۔ اس لیے دوسروں کی آزمائش کے بارے میں منفی فیصلہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
5۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت پر بھروسا رکھیں
انسان کسی چیز کو اپنے لیے بہتر سمجھ سکتا ہے، لیکن اسے مستقبل کے تمام حالات کا علم نہیں ہوتا۔ کبھی مطلوبہ چیز حاصل ہونے میں تاخیر ہوتی ہے، کبھی حالات کسی دوسرے راستے کی طرف لے جاتے ہیں اور کبھی انسان کو اپنی خواہش کے بجائے کسی اور حل کی ضرورت ہوتی ہے۔
صحیح مسلم کی حدیث 2735 کے مطابق، جب بندہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے اور جلد بازی نہ کرے تو اس کی دعا کے بارے میں قبولیت کی امید قائم رہتی ہے۔ اس حدیث کی بنیاد پر مومن کو اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھنا اور دعا جاری رکھنا چاہیے۔ البتہ کسی مخصوص دعا کے جواب کی صورت یا وقت کے بارے میں اپنی طرف سے قطعی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
دعا مانگنے کا بہتر طریقہ کیا ہے؟
دعا کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنا، عاجزی کے ساتھ مانگنا، دل کو دعا کی طرف متوجہ رکھنا اور جلد بازی سے بچنا مفید آداب ہیں۔ بندہ اپنی زبان میں بھی اللہ تعالیٰ سے اپنی ضرورت بیان کر سکتا ہے۔ اس کے لیے مشکل الفاظ یا کسی مخصوص تعداد کو لازمی سمجھنا ضروری نہیں، جب تک اس کی کوئی معتبر شرعی دلیل موجود نہ ہو۔
مایوسی کے بجائے امید کو اختیار کریں
اگر آپ کسی ضرورت کے لیے طویل عرصے سے دعا کر رہے ہیں تو خود کو تنہا یا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم نہ سمجھیں۔ اپنی کوشش جاری رکھیں، جائز اسباب اختیار کریں، غلطیوں کی اصلاح کریں اور اللہ تعالیٰ سے خیر مانگتے رہیں۔ انسان ہر معاملے کا انجام نہیں جانتا، مگر وہ دعا کے ذریعے اپنے رب سے تعلق مضبوط کر سکتا ہے۔
دعا صرف کسی خواہش کو پورا کرانے کا ذریعہ نہیں بلکہ بندگی، امید اور اللہ تعالیٰ سے قربت کا اظہار بھی ہے۔ اس لیے حالات جیسے بھی ہوں، دعا کے ساتھ صبر، شکر اور درست عمل کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں