نانا پاٹیکر چل بسے، بھارتی سنیما کا ایک منفرد باب اختتام پذیر
بھارتی فلمی دنیا کے معروف اور منفرد اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے اچانک انتقال کی خبر سامنے آتے ہی بھارتی سنیما سے وابستہ فنکاروں اور ان کے مداحوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ اپنی بھرپور آواز، بے ساختہ انداز اور کردار میں گہری جان ڈالنے کی صلاحیت کے باعث نانا پاٹیکر نے کئی دہائیوں تک فلم بینوں کی توجہ اپنی جانب برقرار رکھی۔
رپورٹس کے مطابق نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر بے ہوشی کی حالت میں پائے گئے۔ انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے طویل وقت تک انہیں بچانے کی کوشش کی، تاہم ان کی حالت سنبھل نہ سکی اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ابتدائی طبی معلومات کے مطابق موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی ہے، جبکہ مزید طبی کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔
نانا پاٹیکر کا فنی سفر تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط رہا۔ انہوں نے ہندی کے ساتھ ساتھ مراٹھی فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے ایسے نقوش چھوڑے جو ان کے ہم عصر بہت کم فنکاروں کے حصے میں آئے۔ وہ روایتی ہیرو کے بجائے پیچیدہ، سنجیدہ اور حقیقت سے قریب کردار ادا کرنے کے لیے خاص شہرت رکھتے تھے۔
ان کی اداکاری کی خاص بات یہ تھی کہ وہ کردار کو صرف مکالموں تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ اپنے لہجے، چہرے کے تاثرات اور خاموشی تک سے منظر کو مؤثر بنا دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کئی کردار فلم ختم ہونے کے بعد بھی ناظرین کے ذہن میں زندہ رہتے تھے۔
نانا پاٹیکر نے اپنے طویل کیریئر میں متعدد یادگار فلموں میں کام کیا، جن میں پرندہ، کرانتی ویر، ترنگا، خاموشی اور سلام بمبئی سمیت کئی نمایاں فلمیں شامل ہیں۔ ان کی فنی صلاحیتوں کا اعتراف قومی سطح پر بھی ہوا اور انہیں تین مرتبہ نیشنل فلم ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ انہیں پدم شری کا اعزاز بھی حاصل تھا۔
ان کے انتقال کے ساتھ بھارتی فلمی صنعت نے ایسے فنکار کو کھو دیا ہے جس کی شناخت صرف مقبولیت سے نہیں بلکہ اداکاری کے اپنے الگ انداز سے بنی تھی۔ نانا پاٹیکر کی آواز، مکالمہ ادا کرنے کا منفرد طریقہ اور مختلف کرداروں کو حقیقت کے قریب پیش کرنے کی صلاحیت انہیں دوسری صف کے فنکاروں سے الگ مقام دیتی رہی۔
ان کی وفات پر فلمی دنیا سے وابستہ شخصیات اور مداحوں کی جانب سے افسوس اور تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔ نانا پاٹیکر کی زندگی اور فن کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ ایک فنکار اپنی مخصوص شناخت قائم کرلے تو اس کے جانے کے بعد بھی اس کا کام لوگوں کے درمیان موجود رہتا ہے۔
شاید اسی احساس کو ان اشعار میں محسوس کیا جا سکتا ہے: ’’ہمارے بعد محفل میں افسانے بیاں ہوں گے، بہاریں ہم کو ڈھونڈیں گی، نہ جانے ہم کہاں ہوں گے۔‘‘ نانا پاٹیکر کے مداحوں کے لیے بھی ان کا انتقال محض ایک اداکار کی رخصتی نہیں بلکہ ایک ایسی آواز کے خاموش ہوجانے کا لمحہ ہے جسے بھارتی سنیما طویل عرصے تک یاد رکھے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں