دبئی میں بغیر ڈرائیونگ ٹیسٹ کے لائسنس بنوانے والا 8 رکنی گروہ گرفتار، فی لائسنس 10 ہزار درہم وصول کرنے کا انکشاف
دبئی پولیس نے ایک ایسے منظم گروہ کے خلاف کارروائی کی ہے جو ڈرائیونگ ٹیسٹ اور تربیت کے بغیر لوگوں کو لائسنس دلوانے کا دھندہ چلا رہا تھا۔ اس کارروائی میں آٹھ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ خلیج ٹائمز اور گلف نیوز کی رپورٹس کے مطابق ہر لائسنس کے عوض تقریباً 10 ہزار درہم لیے جاتے تھے، جو پاکستانی روپے میں تقریباً ساڑھے سات لاکھ روپے بنتے ہیں۔
پولیس کے مطابق ملزمان پہلے کسی پڑوسی ملک سے ایسا لائسنس تیار کرواتے جس کے لیے درخواست گزار نہ اس ملک گیا ہوتا اور نہ ہی اس نے کوئی تربیت یا امتحان دیا ہوتا۔ بعد ازاں اسی لائسنس کو دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کے ذریعے امارات کے لائسنس میں بدلوانے کی کوشش کی جاتی۔ گاہکوں کو یہ یقین بھی دلایا جاتا کہ انہیں سفر کرنے یا ڈرائیونگ اسکول جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ گروہ سرکاری کاغذی کارروائی نمٹانے والی کمپنیوں کے دفاتر کو بطور ذریعہ استعمال کرتا تھا، جہاں سے ایسے لوگوں سے رابطہ کیا جاتا جو آسان راستے سے لائسنس چاہتے تھے۔
امارات کے بعض ممالک کے ساتھ ایسے معاہدے موجود ہیں جن کے تحت وہاں سے جائز طور پر جاری ہونے والا لائسنس رکھنے والے افراد شرائط پوری کرنے پر اضافی امتحان کے بغیر مقامی لائسنس حاصل کر سکتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گروہ اسی سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا تھا، حالانکہ اس کا مقصد صرف حقیقی لائسنس ہولڈرز کو آسانی دینا ہے۔ گرفتاریاں دبئی پولیس کے محکمۂ مجرمانہ تحقیقات نے وزارتِ خارجہ اور آر ٹی اے کے تعاون سے کیں، جبکہ شعبۂ معاشی جرائم نے تفتیش کے دوران کمپنیوں کے کردار کا سراغ لگایا۔
پولیس نے واضح کیا کہ جو لوگ جان بوجھ کر ایسی خدمات سے لائسنس حاصل کریں گے، وہ بھی قانون کی گرفت میں آ سکتے ہیں۔ لائسنس کی سرکاری تبدیلی سے کسی غیر قانونی عمل کا جواز نہیں بنتا اور نہ ہی پہلے کی خلاف ورزیوں سے چھٹکارا ملتا ہے۔ ٹریفک قوانین سے ناواقف اور ناتجربہ کار ڈرائیور حادثات کا سبب بن سکتے ہیں، جس سے دوسرے ڈرائیوروں، مسافروں اور پیدل چلنے والوں کی جان خطرے میں پڑتی ہے۔ اس لیے شہریوں اور رہائشیوں سے کہا گیا ہے کہ لائسنس کے لیے صرف منظور شدہ اداروں سے رجوع کریں اور ایسی کوئی پیشکش ملے تو متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔ گرفتار افراد کی قومیت اور اس پڑوسی ملک کا نام تاحال ظاہر نہیں کیا گیا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں