ملک کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی کاموں کا نیا مرحلہ، ایکنک نے 11 منصوبوں کی منظوری دے دی
پاکستان میں بجلی کی پیداوار، پانی کی فراہمی، سڑکوں کی تعمیر اور صحت کی سہولتوں سے متعلق متعدد منصوبوں کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) نے اپنے اجلاس میں مختلف شعبوں کے 11 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی، جن کا تعلق خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، پنجاب اور اسلام آباد سے ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے ساتھ عوامی خدمات سے متعلق منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ منظور شدہ اسکیموں میں پن بجلی، شمسی توانائی، سڑکوں کی بہتری، آب رسانی اور جدید فرانزک لیبارٹری کی تعمیر شامل ہے۔ اسلام آباد میں اسپتال کے قیام کی تجویز کو بھی منظوری دی گئی۔
توانائی کے شعبے میں خیبرپختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں 40.8 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے کوٹو ہائیڈرو پاور منصوبے کو منظوری مل گئی ہے۔ گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ کے ڈسٹری بیوٹڈ سولر پلانٹس لگانے کی اسکیم بھی منظور کی گئی۔ اس کے علاوہ قومی گرڈ کے نظام میں بجلی کی ترسیل کو بہتر بنانے کے لیے مخصوص آلات نصب کرنے کا منصوبہ بھی فیصلوں میں شامل ہے۔
بلوچستان میں پانی اور سڑکوں سے متعلق منصوبوں کو بھی اہمیت دی گئی۔ لسبیلہ نہر کی بحالی اور ازسرنو تشکیل کے ساتھ میرانی ڈیم سے گوادر تک پانی پہنچانے کے منصوبے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اقدام کا تعلق علاقے میں پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے سے ہے۔ صوبے میں بویلہ سے پروم اور پروم سے چیدگئی تک سڑکوں کی تعمیر بھی منظور شدہ اسکیموں میں شامل ہے۔
سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کے لیے درگئی، شہبازوئی سے تونسہ شریف تک سڑک کی تعمیر اور اپ گریڈیشن کی منظوری بھی دی گئی۔ پنجاب میں شہری زمینوں کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے اربن لینڈ سسٹمز انہانسمنٹ پراجیکٹ کو بھی منظوری ملی ہے۔ زمین کے ریکارڈ اور شہری منصوبہ بندی سے متعلق ایسے اقدامات انتظامی نظام کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
صحت اور تفتیشی سہولتوں کے شعبے میں اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں کنگ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اسپتال کے قیام اور نیشنل فرانزک ایجنسی کے لیے جدید مخصوص لیبارٹری کی تعمیر کے منصوبے منظور کیے گئے۔ فرانزک سہولتوں کی بہتری سے شواہد کے سائنسی تجزیے کی صلاحیت بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ اسپتال کا منصوبہ صحت کے بنیادی ڈھانچے میں اضافے سے متعلق ہے۔
اجلاس میں اسحاق ڈار نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبوں پر عمل درآمد مقررہ وقت میں کیا جائے، اخراجات کو قابو میں رکھا جائے اور انتظامی رکاوٹیں دور کی جائیں۔ ان ہدایات کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص وسائل مؤثر انداز میں استعمال ہوں اور ان کے فوائد عوام تک پہنچ سکیں۔
ان منصوبوں کی منظوری کے بعد اگلا اہم مرحلہ عملی کام، مالی وسائل کے مناسب استعمال اور مقررہ معیار کو برقرار رکھنا ہوگا۔ منصوبوں کی حقیقی افادیت کا اندازہ اسی وقت لگایا جا سکے گا جب وہ مکمل ہو کر متعلقہ علاقوں کے لوگوں کو سہولت فراہم کرنا شروع کریں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں