شہباز شریف کا عالمی فورم پر پاکستان کے مؤقف کا جامع اظہار
وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اہم عالمی معاملات پر ملک کا مؤقف واضح کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے خطے میں امن، سفارتی کوششوں، سعودی عرب کی سلامتی، فلسطین اور کشمیر سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی۔
وزیراعظم نے سعودی عرب کے خلاف ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کے تقدس کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
شہباز شریف نے عالمی تجارت کے لیے اہم سمندری راستوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی صورتحال پوری دنیا کی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں کشیدگی کم کرنا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
فلسطین کے مسئلے پر وزیراعظم نے فلسطینی عوام کو درپیش مشکلات اور خطے میں جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتے ہوئے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کو مسئلے کے مستقل حل کے لیے ضروری قرار دیا۔
کشمیر کے معاملے پر بھی پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے وزیراعظم نے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کا حوالہ دیا۔ انہوں نے پانی کے مسئلے اور سندھ طاس معاہدے کی اہمیت پر بھی بات کی اور کہا کہ پانی کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
دہشت گردی کے حوالے سے شہباز شریف نے پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کیا اور خطے میں امن کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اسلاموفوبیا اور مذہبی نفرت کے خاتمے کے لیے بھی عالمی سطح پر مؤثر کوششوں کی ضرورت اجاگر کی۔
معاشی ترقی کے حوالے سے وزیراعظم نے اصلاحات، سرمایہ کاری، معدنی وسائل، زراعت، صنعت اور ڈیجیٹل معیشت کو پاکستان کے مستقبل کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی کے شعبوں میں مواقع فراہم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے نقصانات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مشترکہ مسائل کا مقابلہ تعاون، مکالمے اور امن کے ذریعے کیا جائے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں