پیپلزپارٹی صرف لانگ مارچ کی وجہ سے خیبرپختونخواہ میں گورنرراج یا ایمرجنسی کو سپورٹ نہیں کرے گی، ناصر حسین شاہ
کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے پارٹی کا موقف صاف الفاظ میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے سنگین اقدامات کو صرف لانگ مارچ کی بنیاد پر قبول نہیں کرے گی۔ سیاسی احتجاج کو آئینی ہنگامی اقدامات سے جوڑنا درست نہیں۔
ناصر حسین شاہ نے مزید وضاحت کی کہ اگر مستقبل میں یہ بات سامنے آئے کہ صوبائی حکومت اپنے روزمرہ فرائض ٹھیک سے انجام نہیں دے پا رہی تو پھر صورتحال کا الگ جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اس وقت تک پارٹی کا مؤقف یہی ہے کہ محض احتجاجی دباؤ گورنر راج یا ایمرجنسی کا جواز نہیں بن سکتا۔
اسی موضوع پر وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بلوچستان کی حکومت وفاقی اداروں کے خلاف کوئی منصوبہ بندی کرے، سیکیورٹی فورسز سے تعاون روک دے یا وفاق پر چڑھائی کا ارادہ ظاہر کرے تو حالات بدل سکتے ہیں۔ تاہم اس وقت ایسی کوئی صورتحال موجود نہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ حالیہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے فیصلے صدر مملکت اور وزیر اعظم کے اختیار میں ہیں اور انہیں تمام آئینی تقاضوں کے مطابق ہی کرنا ہوگا۔
وزیر قانون نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پیپلز پارٹی موجودہ حکومت کی حلیف جماعت ہے اور اسے اعتماد میں رکھا گیا ہے۔ رہائی کے معاملات کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کی رہائی کا حکم حکومت نہیں بلکہ عدالت دیتی ہے۔ فریقین عدالت میں اپنا موقف پیش کریں گے اور حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔
ان بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت اس وقت محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ صوبائی حکومتوں کے معاملات میں مداخلت صرف اس صورت میں ممکن سمجھی جا رہی ہے جب واقعی انتظامی یا آئینی بحران سامنے آئے۔ فی الحال پارٹی اور حکومت دونوں آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں