لاہور میں 27 ستمبر کے احتجاج پر پولیس کا اہم دعویٰ، مبینہ منصوبے کی تفصیلات سامنے آگئیں
لاہور میں 27 ستمبر کو ہونے والے احتجاج سے پہلے پولیس کی جانب سے ایک ایسا دعویٰ سامنے آیا ہے جس نے معاملے کی حساسیت بڑھا دی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پولیس کو مبینہ طور پر ایسی گفتگو ملی ہے جس سے احتجاج کے دوران شہر میں بدامنی پیدا کرنے کی تیاری کا شبہ ظاہر ہوتا ہے۔
فیصل کامران کے مطابق پولیس کارروائی کے دوران امین نامی ایک شخص کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ گرفتار شخص کے موبائل فون کی فرانزک جانچ کے دوران ایک آڈیو ریکارڈنگ سامنے آئی۔ ان کے مطابق ریکارڈنگ میں ایک خاتون سیاسی کارکن اور گرفتار شخص کے درمیان احتجاج کے حوالے سے گفتگو موجود ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے دعویٰ کیا کہ اس گفتگو میں 20 سے 30 افراد کو لاہور منتقل کرنے اور انہیں احتجاج کے لیے تیار رکھنے سے متعلق بات کی گئی۔ پولیس کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور آڈیو سمیت دیگر دستیاب مواد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق انہیں خدشہ ہے کہ بعض عناصر پرامن احتجاج کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ فیصل کامران نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
پریس کانفرنس میں ڈی آئی جی نے یہ بھی کہا کہ آڈیو میں گفتگو کرنے والی خاتون کا نام ماضی میں نو مئی سے متعلق مقدمات کے حوالے سے سامنے آ چکا ہے۔ تاہم موجودہ معاملے میں پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے مواد اور دعووں کی قانونی حیثیت کا تعین تحقیقات اور متعلقہ شواہد کی جانچ کے بعد ہی ہو سکے گا۔
اس معاملے میں پولیس کا مؤقف یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر احتجاج کو پرامن رکھنے کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ تفتیش کے دوران سامنے آنے والی مبینہ گفتگو مختلف خدشات کو جنم دیتی ہے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب اس نوعیت کے الزامات کی حتمی حقیقت کا فیصلہ تحقیقات، فرانزک شواہد اور قانونی کارروائی کے نتیجے میں ہی ممکن ہوگا۔ صرف کسی آڈیو ریکارڈنگ یا ابتدائی پولیس دعوے کی بنیاد پر کسی فرد کو قصوروار قرار دینا قانونی طور پر درست نہیں سمجھا جاتا۔
لاہور میں ہونے والے احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ اور پولیس کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ شہریوں کی معمول کی زندگی متاثر نہ ہو اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں تحقیقات کے نتیجے میں اس معاملے سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے کا امکان ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں