پیٹرولیم لیوی پر حکومت کی بڑی تجویز، جماعت اسلامی کے لانگ مارچ سے قبل اہم پیش رفت
اسلام آباد میں پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے معاملے پر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان جاری رابطوں میں اہم پیش رفت سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے ایک سال کے لیے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے، جبکہ اس حوالے سے جماعت اسلامی کی قیادت سے مزید بات چیت بھی متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ اس وقت روہڑی سے ملتان کی جانب بڑھ رہا ہے اور جماعت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ مسلسل برقرار رکھا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ جب تک لیوی مکمل طور پر ختم نہیں کی جاتی، احتجاجی مارچ کو ختم نہیں کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کی قیادت کو ایک سال کے لیے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ عوام کو ریلیف دینے کے لیے ایک پیکیج بھی زیر غور ہے، تاہم اس پیشکش پر حتمی پیش رفت جماعت اسلامی کی ٹیکنیکل کمیٹی کی منظوری سے مشروط بتائی گئی ہے۔
حکومتی وفد کی جانب سے یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے سے آگاہ ہیں اور ان کی وطن واپسی کے بعد جماعت اسلامی کی قیادت سے براہ راست ملاقات کا امکان موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ احتجاج کے معاملے پر کوئی قابل قبول راستہ نکالا جا سکے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے بھی یہ عندیہ سامنے آیا ہے کہ اگر حکومت عوام کو ریلیف دینے کے معاملے میں سنجیدہ اور عملی پیش رفت کرتی ہے تو لانگ مارچ میں عارضی وقفہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق لیوی کے حتمی خاتمے تک مارچ کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔
حکومتی وفد میں شامل ایک رکن نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے عام شہریوں کو براہ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان آئندہ رابطے اس معاملے کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایک سال کے لیے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کی تجویز سے متعلق اطلاعات ابھی ذرائع کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں، جبکہ اس حوالے سے حتمی سرکاری فیصلہ اور اس پر عمل درآمد کی تفصیلات بعد میں واضح ہوں گی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں