اقوام متحدہ میں ایرانی صدر کا سخت مؤقف، جوہری پروگرام اور خطے کی صورتحال پر اہم باتیں
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران سے متعلق عالمی سطح پر جاری بحث اور خطے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال پر اپنے ملک کا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی سلامتی کے معاملے میں دفاع کا حق استعمال کر رہا ہے اور موجودہ حالات میں تہران کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ایرانی صدر نے اپنے خطاب کے دوران ان واقعات کا بھی ذکر کیا جن میں ان کے مطابق ایرانی شہری متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ حملوں کے دوران عام آبادی کو نقصان پہنچا اور متعدد افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی قوانین کی پابندی کی ضرورت پر زور دیا۔
پزشکیان کے مطابق میناب میں بچوں کو بھی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کارروائیوں کے دوران ایسے ہتھیار استعمال کیے گئے جن سے شہری آبادی متاثر ہوئی۔ ایرانی صدر نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ایران کو دہشت گرد قرار دینا درست نہیں، جبکہ ان کے بقول ایرانی کارروائیوں میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، شہری آبادی کو نہیں۔
خطاب میں غزہ اور فلسطین کی صورتحال بھی نمایاں رہی۔ مسعود پزشکیان نے اسے عالمی برادری کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا استحکام صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب خطے کے ممالک باہمی تعاون کے ذریعے مشترکہ سلامتی کے لیے کام کریں۔
ایرانی صدر نے جوہری معاملے پر بھی اپنے ملک کا مؤقف واضح کیا۔ ان کے مطابق ایران پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی اور اس سے متعلق علمی و سائنسی صلاحیت استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اسرائیل کے جوہری پروگرام پر اسی نوعیت کی نگرانی نہیں کی جاتی تو ایران کے معاملے میں مختلف معیار کیوں اختیار کیا جا رہا ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ جوہری علم کو چند مخصوص ممالک تک محدود رکھنے کی پالیسی قابل قبول نہیں۔ انہوں نے عالمی سطح پر ایران کے ساتھ برتے جانے والے مبینہ دوہرے معیار کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں اور معائنوں کے معاملے میں تمام ممالک کے لیے یکساں اصول ہونے چاہئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ ایران دباؤ یا دھمکی کے ذریعے کسی فیصلے پر مجبور نہیں ہوگا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ تہران بات چیت، سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے راستے کو مسترد نہیں کرتا۔ ان کے مطابق طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی طریقہ کار سے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
اپنے خطاب میں مسعود پزشکیان نے سمندری راستوں اور ایران کی علاقائی سلامتی کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے دفاع اور اپنے پانیوں میں جہاز رانی کے حقوق کے حوالے سے کسی بیرونی اجازت کا محتاج نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ساحلی ممالک کی سلامتی کو متاثر کرکے سمندری راستوں کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔
ایرانی صدر نے آخر میں علاقائی ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون کو ضروری قرار دیا۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کسی ایک ملک کی سلامتی کو باقی ممالک سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، اس لیے خطے کے ممالک کو باہمی تعاون کے ذریعے ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جس میں اجتماعی سلامتی اور استحکام کو فروغ مل سکے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں