تازہ ترین
تاریخ
English Date
ہجری تاریخ
⌛ Pakistan Time

منگل، 29 ستمبر، 2026

عمران خان کی رہائی عدالت کا فیصلہ ہے، مذاکرات سنجیدہ ہوں: اعظم نذیر تارڑ

Urdu News, Urdu Khabrain, Pakistan News, Pakistan Khabrain, Urdu Sports, International News, Pakistan Currency, Gold Rate, Showbiz, Health, Technology, Poetry and Latest Updates.

مذاکرات سے انکار نہیں مگر سنجیدہ بات چیت ضروری ہے، عمران خان کی رہائی کا فیصلہ عدالت کرے گی: اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) — وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ حکومت مذاکرات سے کبھی نہیں بھگی لیکن بات چیت کا معیار سنجیدہ اور نتیجہ خیز ہونا چاہیے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کا معاملہ حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں بلکہ عدالتوں کا ہے۔

وزیر قانون نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر بانی پاکستان تحریک انصاف کا طبی معائنہ ملک کے سینئر ترین ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ نے مکمل کر لیا ہے۔ اس بورڈ کا بنیادی مقصد یہ طے کرنا تھا کہ خان صاحب کی زندگی کو کوئی خطرہ تو لاحق نہیں۔ عمران خان کی ہمشیرہ جو خود اس میڈیکل بورڈ کے عمل میں شامل تھیں، انہوں نے میڈیا کے سامنے تصدیق کی ہے کہ بانی پی ٹی آئی مکمل طور پر صحت مند اور تندرست ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اگر اب بھی کوئی قانونی کمی بیشی نظر آتی ہے تو اس کا جائزہ عدالتوں نے لینا ہے۔ دارالحکومت پر چڑھائی یا جلسے جلوس سے ایسے مسائل حل نہیں ہوتے۔ انہوں نے عام شہریوں سے سوال کیا کہ کیا تحریک انصاف کا بار بار اسلام آباد اور پنجاب پر دباؤ ڈالنے کا طریقہ درست تھا؟ اگر یہ رویہ درست سمجھا جائے تو پھر حکومت کو بھی خاموش بیٹھ جانا چاہیے۔

وزیر قانون نے زور دیا کہ ملک میں آئینی، قانونی اور عدالتی نظام موجود ہے۔ پارلیمنٹ میں قوانین پر کھلی بحث ہوتی ہے اور حکومت ہمیشہ سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار رہی ہے۔ تاہم قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ صرف عدالتیں کرتی ہیں۔ شہروں کو یرغمال بنا کر مطالبات منوانے کا طریقہ قابل قبول نہیں۔

وکلاء کی ڈگریوں اور بار کونسل کے انتخابات کے تنازع پر بات کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے سخت موقف اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ بار کونسلز کے انتخابات اور وکلاء کا نظام ان کا اندرونی معاملہ ہے۔ کسی سیاسی رہنما یا حکومت کو اس پر فتویٰ دینے کا حق نہیں۔ 2020ء میں تمام وکلاء بشمول میرے ڈگریاں پاکستان بار کونسل سے تصدیق شدہ ہیں اور ریکارڈ موجود ہے۔ جو لوگ ادھوری معلومات پر الزام تراشی کر رہے ہیں وہ ریکارڈ دیکھیں اور غلط بیانی کرنے والوں کو معافی مانگنی چاہیے یا قانون کے مطابق جرمانہ ادا کرنا چاہیے۔

وزیر قانون نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت مذاکرات سے گریزاں نہیں لیکن بات چیت کا مقصد ملک کے استحکام اور قانون کی بالادستی ہونا چاہیے۔ عمران خان کے طبی معائنے کے بعد اب کوئی بھی قانونی معاملہ عدالتوں کے سپرد ہے اور اسی فورم پر اس کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

🍲 پاکستانی پکوان — Recipes

Urdumaaza Information Hub